قرآن و اخلاق
اخلاق اسلامی از منظر آیات قرآن 

Normal 0 false false false EN-US X-NONE AR-SA /* Style Definitions */ table.MsoNormalTable {mso-style-name:"Table Normal"; mso-tstyle-rowband-size:0; mso-tstyle-colband-size:0; mso-style-noshow:yes; mso-style-priority:99; mso-style-qformat:yes; mso-style-parent:""; mso-padding-alt:0in 5.4pt 0in 5.4pt; mso-para-margin-top:0in; mso-para-margin-right:0in; mso-para-margin-bottom:10.0pt; mso-para-margin-left:0in; line-height:115%; mso-pagination:widow-orphan; font-size:11.0pt; font-family:"Calibri","sans-serif"; mso-ascii-font-family:Calibri; mso-ascii-theme-font:minor-latin; mso-fareast-font-family:"Times New Roman"; mso-fareast-theme-font:minor-fareast; mso-hansi-font-family:Calibri; mso-hansi-theme-font:minor-latin; mso-bidi-font-family:Arial; mso-bidi-theme-font:minor-bidi;}

آسان مسائل (قسط نمبر1)

داڑھی مونڈھنا حرام کیوں؟
ایک دوست نے سوال کیا تھا کہ "داڑھی مونڈھنا حرام کیوں ہے" جس کا جواب درج ذیل ہے۔
داڑھی مونڈھنا حرام کیوں؟
جواب:
داڑھی مونڈھنا حرام اس لئے ہے کہ امام سجاد علیہ السلام نے امیرالمؤمنین علیہ السلام سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا: حلق اللحية من المثلة و من مثل فعليه لعنة اللَّه(مستدرك، ج 1، ص 59، از كتاب جعفريات)۔
ترجمہ: داڑھی مونڈھنا مُثلہ (یعنی چہرے کو بگاڑنے، ناک، کان اور ہونٹ کو قطع کرنے) کے زمرے میں آتا ہے اور خدا کی لعنت ہے اس پر جو مُثلہ کا ارتکاب کرے۔
اس روایت میں داڑھی مونڈھنا مثلہ کے زمرے میں آتا ہے اور اس کی پاداش اللہ کی لعنت اور غضب ہے۔
یادرہے کہ پاکستان ميں طالبان کہلوانے والے وہابی دہشت گرد شیعہ افراد کے ساتھ یہی سلوک کرتے ہیں اور نہتے شیعہ مسافروں کر پکڑ کر ان کا مثلہ کرتے اور ان کے بدن کے ٹکڑے ٹکڑے کردیتے ہیں اور ان کا عمل مُثلہ کا عینی مصداق ہے اور رسول اللہ فرماتے ہیں کہ مثلہ کرنے والے پر اللہ کی لعنت اور نیز رسول اللہ (ص) فرماتے ہیں کہ داڑھی مونڈھنا بھی مُثلہ کے زمرے میں آتا ہے۔
مراجع:
مراجع تقلید اور علماء نے بھی داڑھی مونڈھنا حرام قرار دیا ہے یا کم ازکم فرمایا ہے کہ "احتیاط واجب" یہ ہے کہ داڑھی رکھی جائے اور احتیاط واجب ترک نہیں کی جاسکتی۔
سورس: (محمد رضا طبسى، تراش ريش از نظر اسلام)
مسلمانوں کا قطعی رویہ
رسول اللہ (ص) کے دور سے اب تک دیندار لوگ داڑھی رکھنے کے پابند ہیں اور جو داڑھی مونڈھتا ہے اس کی مذمت کرتے آئے ہیں اور اس کو فاسق سمجھتے ہیں اور اسلامی عدالت میں بھی گواہی دینے کے لئے داڑھی رکھنا ضروری ہے کیونکہ داڑھی مونڈھنے والے شخص کو فاسق سمجھا جاتا ہے اور اس کی گواہی قابل قبول نہیں سمجھی جاتی۔ یعنی عادل ہونے کی ایک شرط داڑھی رکھنا ہے اور گواہی کے لئے عدالت شرط ہے۔
(آيت اللَّه العظمی سید ابوالقاسم خوئى، مصباح الفقاهة، ج 1، ص 264)
نتیجہ: "احتیاط واجب" یہ ہے کہ داڑھی رکھی جائے اور احتیاط واجب ترک نہیں کی جاسکتی

آسان مسائل (قسط نمبر2)

شادی
پیغمبر اسلام (ص) کا ارشاد ھے : ” اے جوانو ! اگر شادی کرنے کی قدرت رکھتے ھو تو شادی کرو کیونکہ شادی آنکھ کو نا محرموں سے زیادہ محفوظ رکھتی ھے اور پاکدامنی و پرھیز گاری عطا کرتی ھے “(۱)

جوانی اور جذبات کا ظھور
بلوغ کی بھار اور جوانی کے پھول کھلنے کے بعد لڑکوں اور لڑکیوں کے ذھن میں جنس مخالف کی طرف ایک پر اسرار کشش محسوس ھوتی ھے۔ جیسے جیسے قوتیں ظاھر ھوتی رھتی ھیں ویسے ویسے یہ کشش طاقتور ھوتی جاتی ھے اور آخر میں شدید تقاضے کی صورت اختیار کر لیتی ھے ۔ یہ وھی فطری تقاضا ھے جس کو جنسی کشش کے نام سے یاد کیا جاتا ھے ۔

جسم و روح پر جنسی کشش کا اثر
یہ جاننا چاھئیے کہ :
 یہ کشش صرف لذت کے لئے نھیں ھے بلکہ خدا وند عالم نے اپنی حکمت کی بنا پر اس کو بقائے نسل کا ذریعہ قرار دیا ھے۔ اگر یہ کشش انسان میں نہ ھوتی تو وہ ھرگز شادی کے لئے تیار نہ ھوتا جس کی بنا پر نسل انسانی نیست و نابود ھو جاتی ۔یھی کشش مرد و عورت کو اس بات پرآمادہ کرتی ھے کہ وہ شادی کی زحمتوں کو برداشت کریں اور ذمہ داریاں قبول کریں ۔
 جنسی کشش ایک فطری تقاضا ھے اگر صحیح طور سے اس کا جواب نہ دیا جائے تو ھو سکتا ھے کہ جسم اور روح پر منفی اثرات مرتب ھوں اور انسان کو اعتدال کی حد سے خارج کر دیں ۔ خاص کر اس زمانے میں جبکہ ھر طرف سے ایسے وسائل مھیہ کئے جا رھے ھیں جن سے اس کشش کو بڑھا و امل رھا ھے اور روز بروز اس میں اضافہ ھوتا چلا جارھا ھے ۔
اس کشش کی اھمیت کو پیش نظر رکھتے ھوئے ضروری ھے کہ ھم صحیح راستے کا انتخاب کریں تاکہ انسان کے ساتھ ساتھ یہ بھی ارتقائی منزلیں طے کر سکے ۔یہ بات مسلم ھے کہ اس فطری تقاضے سے صرف نظر نھیں کیا جا سکتا اور نہ اس سلسلہ میں بے توجھی برتی جا سکتی ھے اور اسی کے ساتھ ساتھ اس کو مکمل آزادی بھی نھیں دی جا سکتی کیونکہ اس صورت میں فرد اور معاشرہ دونوں ھی راہ سے منحرف ھو جائیں گے اور اخلاقی لحاظ سے نھایت پست ھو جائیں گے ۔ اس فطری تقاضے کا صحیح جواب شادی ھے ۔
بعض لوگوں کا خیال غلط ھے کہ اس کشش کو بالکل دبا دیا جائے اور ھمیشہ کنوارا رھا جائے ان لوگوں کے نزدیک کنوارا رھنا فضیلت کی بات ھے ۔
اسلام نے اس خیال کو پسند نھیں کیا ھے بلکہ مسلمانوں کو ذمہ دار قرار دیا ھے کہ وہ شادی کے سائے میں اس فطری تقاضے کو پورا کریں ۔ اولاد کی تربیت اور رونما ھونے والی مشکلات کو برداشت کرتے ھوئے اپنی روحانی اور معنوی منازل کی تکمیل کریں۔ اسی بنا پر اسلام نے شادی سے فرار اور کنوارارھنے کو اچھا نھیں سمجھا ھے بلکہ شادی کو لازم اور مستحب قرار دیا ھے ۔
اس بنا پر عیسائیت کا یہ نظریہ کہ شادی نہ کرنا فضیلت کی بات ھے قرآن اور اسلام کی نظر میں کوئی اھمیت نھیں رکھتا ۔
کیتھولک فرقے میں ایک ایسا ” دینی گروہ “ ھے جو بخیال خود تقویٰ اور پاکیزگی کی منزلوں تک پھونچنے کے لئے جنسی لذت سے کنارہ کش رھتا ھے ۔
مغربی گرجاگھروں میں پادری مرد و عورت کنوارے رھنے کی نذر کرتے ھیں۔ مغربی گر جا گھر وں میں تقریباً انھیں لوگوں کو پادری منتخب کیا جاتا ھے جو کنوارے ھوں اور اس منصب پر پھونچنے کے بعد انھیں یہ حق نھیںھے کہ وہ شادی کر لیں اور اگر پھلے سے شادی شدہ ھیں تو زوجہ کے انتقال کے بعد دوسری شادی نھیں کر سکتے ۔یہ افراد کس حد تک کنوارے رھتے ھیں اور تقویٰ و پرھیزگاری کی کس منزل پر فائز ھیں اور اس گروہ نے کیا کیا تباھی اور گندگی پھیلائی ھے یہ وہ موضوع ھے جس کو بیان کرنے کی ضرورت نھیں ھے اور اس وقت ھماری بحث سے خارج بھی ھے ۔
ھم تو اتنا کھنا چاھتے ھیں کہ دین اسلام خدا ترسی اور تقویٰ و پرھیز گاری کی عظیم منزل پر فائز ھونے کے لئے با شرائط، شادی کو رکاوٹ نھیں تصور کرتا بلکہ اسلام یہ چاھتا ھے کہ مسلمان شادی کے سلسلے میں پیش آنے والی مشکلات کا سامنا کرتے ھوئے روحانی اور معنوی فضیلتوں کو حاصل کرے ۔

آسان مسائل (قسط نمبر3)


تسکین خواھشات اور شدت پسند افراد
فرایڈ اور اس کے ھم فکروں نے اس سلسلے میں افراط کا راستہ اختیار کیا ھے اور اس سلسلے میں سماج کے لئے مکمل آزادی جس میں کوئی قید و شرط نہ ھو کو تجویز کیا ھے ۔ یہ لوگ یا تو اس حقیقت سے ناواقف ھیں کہ افراط کی صورت میں یہ جنسی کشش کیا کیا بر بادی اور تباھی پھیلاتی ھے یا یہ لوگ جان بوجہ کر قوموں کو زھردلوانے اور جوانوں کو تباہ و برباد کرنے کا منصوبہ بنا رھے ھیں ۔
صیھونی رھبروں نے عالمی یھودی سیاست کی تفصیل کے سلسلے میں یہ تصریح کی ھے :
ھم پرلازم ھے کہ جھاں تک ھو سکے اخلاقیات کو برباد کیا جائے تاکہ زیادہ سے زیادہ قدرت حاصل کی جا سکے ۔ فرایڈھم میں سے ھے وہ برابر جنسی مطالب کی نشر و اشاعت کر رھا ھے تاکہ جوانوں کی نظر میں کسی چیز کا تقدس باقی نہ رہ جائے ان کو بس ایک ھی فکر ھو کہ کسی طرح اپنی جنسی خواھش کو پورا کیا جائے اور آخر کار اپنی انسانیت سے ھاتہ دھو بیٹھیں “
جو لوگ فرایڈ کی پیروی کرتے ھیں ان کا یہ خیال درست نھیں ھے کہ جنسی کشش کو کھلی آزادی دینے سے اس کشش کو قابو میں رکھا جا سکتا ھے ۔ ان لوگوں نے صرف اتنا دیکھا ھے کہ اس کشش پر بے جا پابندیوں سے خراب نتائج بر آمد ھوتے ھیں لھذا اس سلسلے میں اس بات کے قائل ھیں کہ جنسی کشش کے سلسلے میں عورت اور مرد کو کھلی چھوٹ دے دینا چاھئے لیکن یہ لوگ اس حقیقت کی طرف متوجہ نھیں ھیں کہ جس طرح بے جا پابندیوں سے خراب نتائج بر آمد ھوتے ھیں اسی طرح کھلی چھوٹ خطرناک نتائج کا پیش خیمہ بن سکتی ھے اور یہ ایسی حقیقت ھے جس کو اس وقت کے مغربی و مشرقی ممالک کے معاشرہ میں باقاعدہ دیکھا جا سکتا ھے ۔
کبھی ایسا بھی ھوتا ھے کہ وہ افراد جو بے قید و شرط آزادی کے خواھاں ھیں جب ان کی ساری خواھشیں پوری نھیں ھوتی ھیں تو ان پر اس کا الٹا اثر ھوتا ھے اور ان کے دل کینہ و کدورت سے بھر جاتے ھیں اگر اس فطری تقاضے کو قابو میں رکھنا چاھتے ھیں اور اسے صحیح طور سے حاصل کرنا چاھتے ھیں تو ضروری ھے کہ اس کو کھلی آزادی نہ دی جائے اور اس کو افراط کی حدود سے محفوظ رکھا جائے ۔

تسکین خواھشات اور اسلام
دین اسلام نے واقعی ، فطری ، انفرادی ، اجتماعی
․․․․․․․تمام ضرورتوں اور مصلحتوں کو پیش نظر رکھتے ھوئے جنسی تسکین کے لئے راستہ معین کیا ھے جس میں بے جا پابندیوں کے نہ خراب اثرات ھیں اور نہ بے قید و شرط آزادی کے تباہ کن نتائج ۔
اسلام نے ایک طرف غیر شادی شدہ رھنے اور معاشرہ سے کنارہ کش رھنے سے منع کیا ھے اور دوسری طرف جنسی تسکین کے لئے شادی کی ترغیب دلائی ھے اور جھاں جنسی کشش کی سر کشی کا خطرہ ھو وھاں شادی کو واجب قرار دیا ھے ۔

آسان مسائل (قسط نمبر4)

غیر شادی شدہ رھنا
اسلام نے تنھا اور غیر شادی شدہ رھنے کو اچھا نھیں سمجھا ھے بلکہ اس کی سخت مذمت کی ھے حضرت رسول (ص) خدا کا ارشاد ھے :
میری امت کے بھترین لوگ شادی شدہ ھیں اور وہ لوگ برے ھیں جو شادی شدہ نھیں ھیں “
عبد اللہ ابن مسعود کا بیان ھے کہ ایک جنگ میں ھم لوگ حضرت رسول خدا(ص) کے ھمرکاب تھے چونکہ ھماری بیویاں ھمارے ساتھ نھیں تھیں ، ھم لوگ سختی سے دن گزار رھے تھے ۔ ھم لوگوں نے آنحضرت سے دریافت کیا ، کیا جائز ھے کہ ھم لوگ اپنی جنسی خواھشات کو بالکل نابود کردیں ؟ حضرت نے ایسا کرنے سے منع فرمایا

اسلام اور رھبانیت
رھبانیت ( دنیا اور اس کی لذتوں کو ترک کر دینا ) کی اسلام میں مذمت کی گئی ھے مسلمانوں کو اس سے دور رھنا چاھئے ۔ پیغمبر اسلام نے ارشاد فرمایا :
لیس فی امتی رھبانیة “ ” میری امت میں رھبانیت نھیں ھے
آنحضرت کو جب یہ معلوم ھوا کہ آپ کے ایک صحابی ” عثمان بن مظعون “ نے دنیا سے منہ پھیر لیا ھے بیوی بچوں سے کنارہ کش ھو گئے ھیں ، دن روزے میں رات عبادت میں بسر کرتے ھیں ، آنحضرت کو ناگوار گزرا۔ناگواری کے عالم میں گھر سے باھر تشریف لائے اور عثمان بن مظعون کے پاس گئے اور فرمایا :
خدا وند عالم نے مجھے رھبانیت کے لئے نھیں بھیجا ھے بلکہ مجھے ایسے دین کے ساتھ مبعوث کیا ھے جو معتدل ھے، آسان ھے جس میں دشواریاں نھیں ھیں ۔ میںبھی روزہ رکھتا ھوں ، نمازیں پڑھتا ھوں اور اپنی ازواج سے نزدیکی کرتا ھوں جو شخص میرے فطری دین کو دوست رکھتا ھے اس کو چاھئے کہ وہ میری سنت اور روش کی پیروی کرے اور شادی کرنا میری سنتوں میں سے ایک ھے

اسلام اور شادی

اسلامی روایات میں شادی کی بھت ترغیب دلائی گئی ھے ۔
خدا وند عالم کی منجملہ نشانیوں میں ایک نشانی یہ ھے کہ اس نے تم ھی سے تمھارا ھمسفر قرار دیا تاکہ تم اس کے ذریعہ سکون دل حاصل کرو اور تمھارے درمیان مھر ومحبت قرار دی “
قرآن کریم کی نظر میں شادی کوئی کثافت اور آلودگی نھیں ھے بلکہ شادی سکون دل کا ذریعہ ھے مھر و محبت کا سبب ھے شادی کی تسکین کو وہ لوگ زیادہ محسوس کر سکتے ھیں جنھوں نے تنھائی کی سختیاں برداشت کی ھوں اور کنواری زندگی کے تلاطم کو محسوس کیا ھو ۔
پیغمبر اسلام نے ارشاد فرمایا :” اے جوانو ! اگر شادی کرنے کی صلاحیت رکھتے ھو تو ضرور شادی کرو کیونکہ شادی آنکہ کو نا محرموں سے زیادہ محفوظ رکھتی ھے اور پاکدامنی و پرھیز گاری عطا کرتی ھے
آنحضرت نے یہ بھی ارشاد فرمایا :” جس نے شادی کی اس نے اپنا نصف دین محفوظ کر لیا “(
۱۰)
اگر شادی کے ذریعہ جنسی کشش کو رام کر لیا گیا تو متلاطم روح کو سکون مل جائے گا اور زندگی کے حقائق بھتر طریقے سے درک کئے جا سکیں گے ۔دین اور اپنی سعادت کی طرف قدم بڑہ سکیںگے ۔ اس مقصد کے حصول کےلئے ھرایک پر لازم ھے کہ وہ شادی کے شرائط اور وسائل فراھم کرے تاکہ جوانی کے طرب و نشاط سے لطف اندوز ھو کے کامیابیوں کی آغوش میں مھر و محبت کے پھول سونگہ سکے تاکہ جوانی کی بھاروں میں ابر رحمت ٹوٹ کر برسے اور اس کے دامن کردار کو گناہ کی کثافتیں آلودہ نہ کر سکیں اور اس کی زندگی رنج وغم کی تاریکیوں میں بھٹکنے نہ پائے ۔ آنکھیں آوارگی کی کثافتوں میں ملوث نہ ھونے پائیں ۔ اس کی پاکیزگی مجروح نہ ھو اور نیکیاں برائیوں میں تبدیل نہ ھوں ۔

آسان مسائل (قسط نمبر5)       

شادی کی مشکلات اور ان کا حل
۱۹۶۳ءء میں صرف ایک سال میں امریکہ میں ڈھائی لاکہ غیر قانونی بچے پیدا ھوئے
امریکہ میں اعداد و شمار کے مطابق
۱۹۶۹ءء میں اسکول کی اکثر لڑکیاں عفت سے ھاتہ دھو چکی تھیں اور بے پناہ آزاد ھو گئی تھیں
جرمنی میں پچاس لاکہ لڑکیوں نے صرف اس بنا پر خود کشی کی کوشش کی کہ ان کو کوئی شوھر نھیں مل سکا تھا
اس طرح کے واقعات ( جس سے ھندوستان بھی محفوظ نھیں ھے اخبارات ھر روز اس طرح کی خبروں سے بھرے ھوتے ھیں ) اس بات کی سند ھیں کہ مغربی تھذیب و تمدن کس قدر پست ھے اور بے عفتی ، بے پناہ آزادی ، بے حیائی ، اخلاقی گراوٹ وغیرہ سب اسی تمدن کے نتائج ھیں ۔
یہ بات واضح ھے کہ شادی کی راہ میں جو رکاوٹیں ھیں اگر ان کو بر طرف کر دیا جائے اور لڑکے اور لڑکیوں کی شادی کے وسائل جلد فراھم کر دیئے جائیں تو اس طرح کے شرم آورواقعات میں کافی حد تک کمی ھو جائے گی ۔ اس سلسلہ میں مغربی دانشور بھی متفکر نظر آتے ھیں ،انھوں نے یہ درک کر لیا ھے کہ اس سلسلہ میں صحیح راستہ وھی ھے جو اسلام نے پیش کیا ھے ۔
ویل ڈورانٹ کا کھنا ھے : ” اگر ایسی صورت نکل آئے کہ شادیاں فطری عمر میں ھو جائیں تو فحشاء ، خطرناک بیماریاں ، بے نتیجہ تنھائیاں ، انحرافات وغیرہ جنھوں نے زندگی کو داغدار کر دیا ھے نصف حد تک کم واقع ھو سکتے ھیں
اقتصادی مشکل
آج کی دنیا میں جنسی بلوغ اور اقتصادی بلوغ میں کافی فاصلہ ھے اسی بنا پر جوانوں کو شادی سے وحشت ھوتی ھے اور شادی ھوّا معلوم ھوتی ھے اقتصادی مشکلات جوانوں کو اس بات پر مجبو ر کرتی ھیں کہ وہ جلدی شادی نہ کریں جس کی بنا پر شھوت کے شعلے بھڑکنے لگتے ھیں اور فساد کا میدان ھموار ھونے لگتا ھے ۔
اس بنا پر جوانوں کو چاھئے کہ وہ زندگی میں اپنی توقعات ذرا کم کریں انھیں یہ سمجھنا چاھئے کہ ابتدائے جوانی میں کسی کی بھی ساری ضرورتیں پوری نھیں ھوتی ھیں ۔ زندگی کی حقیقت پر نظر رکھتے ھوئے بے جا تکلفات سے اپنے کو آزاد کرائیں اور دوسروں کی دیکھا دیکھی اندھی تقلید سے باز رھیں ۔ جب انھیں یہ احساس ھو جائے کہ زندگی کی بنیادی ضرورتیں اور شرائط موجود ھیں تو شادی کے لئے اقدام کردینا چاھئے ۔
قرآن کریم کا ارشاد ھے :
غیر شادی شدہ لڑکے اور لڑکیوں کی شادی کے وسائل فراھم کرو ۔ اگر وہ تنگ دست ھوں گے تو خدا اپنے فضل و کرم سے ان کو غنی کر دے گا

شادی کے اخراجات
دوسری مشکل یہ ھے کہ شادی کے اخراجات میں روز بروز اضافہ ھوتا جا رھا ھے ۔ والدین اور سر پرستوں کی توقعات بڑھتی جا رھی ھیں ۔ رسم و رواج اور تکلفات اتنے زیادہ مھنگے ھو گئے ھیں کہ جوان شادی سے گھبراتے ھیں۔ان غلط رسم و رواج اور بے جا تکلفات کا ذمہ دار کون ھے ؟
مناسب ھے کہ لڑکیاں اور ان کے والدین حضرت رسول خدا(ص) کا یہ پیغام غور سے سنیں ۔ اس کی پیروی کرتے ھوئے حقائق کو سمجھیں اور ھوا و ھوس سے دور رھیں ۔
آنحضرت کا ارشاد ھے :
اگر کوئی ( خواستگار ی ) کے لئے تمھارے پاس آئے اور تم اس کے اخلاق اور دین سے راضی ھو( اس کو پسند کرتے ھو ) تو اس سے شادی کرلو ۔ اور اگر انکار کرو گے تو زمین میں عظیم فتنہ و فساد برپا ھو جائے گا “
آنحضرت نے یہ بھی ارشاد فرمایا :
میری امت کی بھترین عورتیں وہ ھیں جو خوبصورت ھوں اور جن کا مھر کم ھو “
حضرت امام جعفر صادق علیہ السلام نے ارشاد فرمایا :” وہ عورت با برکت ھے جو کم خرچ ھو “

کفو
بے جا توقعات کی ایک وجہ ” کفو “ کے صحیح مفھوم سے نا واقفیت ھے بھت سے لوگ بھت ساری چیزوں کو اپنی شان کی خصوصیت سمجھتے ھیں جن کی حیثیت تکلفات سے زیادہ نھیں ھے وہ کھتے ھیں کہ ھم اپنی لڑکی کی شادی کس طرح کریں ابھی تک ھمیں کوئی آئیڈیل لڑکا نھیں مل سکا یعنی مالدار ھو ، بڑا خاندان ھو ،زندگی کے جملہ وسائل فراھم ھوں ۔
بعض افراد اس طرح کے قیود سے عاجز آچکے ھیں اور معاشرہ کو قصور وار قرار دیتے ھیں اور وہ خود اس بات سے غافل ھیں کہ اس طرح کا سماج خود انھیں نے تشکیل دیا ھے ۔
اسلام میں کفو کا مطلب مال و دولت ، جاہ و منصب اور مادیت کی برابری نھیں ھے بلکہ اگر وہ افراد دینی اور اخلاقی اعتبار سے برابر ھیں تو وہ ایک دوسرے کے کفو ھیں ۔
جویبر “ یمامہ کے رھنے والے تھے مدینہ میں رسول خدا (ص) کی خدمت میں حاضر ھوئے اور اسلام قبول کیا ۔ کوتاہ قد تھے ۔ محتاج و برھنہ تھے اور کسی قدر کریہ المنظر تھے ۔ پیغمبر اسلام آپ کو کافی تسلی دیتے تھے اور آنحضرت کے حکم کے مطابق جویبررات کو مسجد میں سوتے تھے ۔
اور اس طرح رفتہ رفتہ ان مھاجروں اور غریبوں کی تعداد میں اضافہ ھو گیا جن کا ٹھکانہ بس مسجد تھی ۔
پیغمبر اسلام پر وحی نازل ھوئی کہ ان لوگوں کو مسجد کے باھر جگہ دی جائے ۔ رسول خدا (ص) نے خدا کے حکم پر عمل کرتے ھوئے حکم دیا کہ پناہ گزینوں کے لئے ایک الگ جگہ معین کی جائے بعد میں اس جگہ کا نام ” صفّہ “ قرار پایا ۔ جو لوگ وھاں رھتے تھے ان کو اسی مناسبت سے اصحاب صفہ کھا جاتا تھا ۔
ایک دن پیغمبر اسلام نے شفقت بھری نگاہ سے جویبر کو دیکھا اور شادی کرنے کی پیش کش کی ۔
جویبر نے کھا : میرے ماں باپ آپ پر قربان ! کون لڑکی مجہ سے شادی کرنے پر تیار ھو گی خدا کی قسم میرا نہ کوئی حسب و نسب ھے نہ دولت ھے اور خوبصورت بھی تو نھیں ھوں ۔
پیغمبر اسلام نے فرمایا : اسلام نے جاھلیت کی رسموں کو ختم کر دیا ھے وہ لوگ جو اس زمانے میں پست تھے اسلام لانے کے بعد با عزت ھو گئے وہ لوگ جو جاھلیت میں( دولت ، ثروت ، جاہ و منصب کی بنا پر )اپنے کو با عزت سمجھتے تھے آج وہ ( احکام خدا کی نافرمانی کرنے کی بنا پر ) اسلام کی نگاہ میں ذلیل ھو گئے ھیں ۔
جویبر! تمام انسان، گورے کالے ،عرب عجم سب فرزند آدم ھیں اور خدا نے آدم کو مٹی سے پیدا کیا ، قیامت میں وھی شخص سب سے بھتر ھے جو سب سے زیادہ احکام الٰھی کی پیروی کرنے والا اور پرھیز گار ھو ۔ اس بنا پر کسی بھی انسان کو تم پر فوقیت حاصل نھیں ھے مگر تقویٰ اور پرھیز گاری کی بنیاد پر ۔
اسکے بعد فرمایا : زیاد بن بشیر اپنے قبیلہ کی محترم شخصیت ھے اس کے پاس جاؤ اور کھو رسول خدا(ص) نے مجھے آپ کے پاس بھیجا ھے تاکہ آپ سے آپ کی بیٹی ” ذلفا“ کی خواستگاری کروں ۔
پیغمبر اسلام کے حکم کے مطابق جویبر زیاد بن بشیر کے گھر گئے اجازت طلب کی ، داخل ھوئے اور پیغمبر کا پیغام پھونچایا ۔
زیاد نے تعجب سے پوچھا کیا پیغمبر اسلام نے تمھیںبس اسی کام سے بھیجا ھے ۔
جویبر نے کھا : ھاں میں رسول خدا (ص) کی طرف غلط نسبت نھیں دونگا ۔
زیاد نے کھا : ھم اپنی لڑکیوں کی شادی صرف انھیں سے کرتے ھیں جو ھمارے برابر ھوں اور انصار سے ھوں تم جاؤ۔ میں خود رسول خدا (ص) کی خدمت میں حاضر ھو کر معذرت کر لوں گا ۔
جویبر یہ کھتے ھوئے واپس چلے آئے کہ آپ کا یہ طریقہ قرآن اور حدیث پیغمبر کے مطابق نھیں ھے ۔
زیاد کی بیٹی ذلفا کنارے کھڑی جویبر کی گفتگو سن رھی تھی اس نے باپ کو بلایا اور دریافت کیا آپ نے جویبر کو کیا جواب دیا ؟
زیاد نے کھا : جویبر تمھاری خواستگاری کے لئے آیا تھا اور کھہ رھا تھاکہ پیغمبر اسلام کے حکم کے مطابق تمھاری شادی اس کے ساتھ کر دوں ۔
ذلفا نے کھا کہ اس کو جلدی واپس بلائیے خدا کی قسم وہ پیغمبر کی طرف غلط نسبت نھیں دے سکتا۔
زیاد نے جویبر کو واپس بلایا اور خود پیغمبر اسلام کی خدمت میں حاضر ھوئے اور کھا میرے والدین آپ پر قربان ۔ آپ کی جانب سے جویبر اس طرح کا پیغام لایا تھا آپ تو جانتے ھی ھیں کہ ھم اپنی لڑکیوں کی شادی اپنے برابر والوں کے علاوہ کسی اور سے نھیں کرتے ۔
پیغمبر اسلام نے فرمایا :
جویبرمومن ھے اور مرد مومن زن مومنہ کا کفو ھے اور مسلمان مرد مسلمان عورت کا کفو ھے :” المومن کفو للمومنة و المسلم کفو للمسلمة “ جویبر کو اپنا داماد بنا لو اور اس کو اپنے سے دور کرنے کے لئے بھانہ مت تلاش کرو ۔
زیاد واپس ھوئے جو باتیں رسول خدا (ص) سے ھوئی تھیں ذلفا سے بیان کر دی ۔
ذلفا نے نھایت ایمان و اطمینان سے اپنے والد سے کھا رسول خدا (ص) کے حکم پر عمل کیجئے اگر آپ نا فرمانی کریں گے تو کافر ھو جائیں گے ۔
زیاد نے دیکھا کہ اس کی بیٹی اس شادی پر راضی ھے ۔ جویبر کو اپنے رشتہ داروں کے درمیان بلایا اور ذلفا سے شادی کر دی ۔ چونکہ جویبر کے پاس گھر نھیں تھا لھذا ایک گھر بھی دیا تاکہ جویبر اور ذلفا آسانی کے ساتھ اپنی زندگی کا آغاز کر سکیں “
یہ بات بھی قابل توجہ ھے یہ لوگ جو تحصیل علوم کی طولانی مدت کو شادی کی راہ میں رکاوٹ خیال کرتے ھیں وہ اشتباہ کرتے ھیں کیونکہ شادی صرف تحصیل علوم کو متاثر نھیں کرتی بلکہ شادی کے بعد وہ سکون ملتا ھے کہ جس کی بنا پر مزید ذوق و شوق سے بڑھائی کی جا سکتی ھے ۔ جو لوگ یہ کھتے ھیں کہ جب تک جوان ڈگری حاصل نہ کر لے ،اس کی مالی حیثیت درست نہ ھو جائے اس وقت تک شادی نھیں کرنا چاھئے یہ نظریہ بالکل بے بنیاد ھے ۔ کیونکہ یہ بات بیان کی جا چکی ھے کہ اقتصادی پریشانی زیادہ تر غلط رسم و رواج کی بنا پر ھے ۔ اگر گھرانے اسلامی قوانین پر عمل کرنے لگیں اور اپنی توقعات کم کر دیں، خرافات اور اندھی تقلید سے دست بردار ھو جائیں تو وہ شادی جو ایک ھیولیٰ بنی ھوئی ھے اور خطرناک نظر آتی ھے نھایت آسان ھو جائے گی ۔
دوسرے لفظوں میں یوں بیان کیا جا سکتا ھے کہ اگر طالب علم اپنی توقعات کم کریں اور واقعی ضرورتوں کو خیالی ضرورتوں سے جدا کریں اور لڑکی کے والدین اسلامی احکام سے واقفیت کی بنا پر غلط رسم و رواج سے دست بردار ھو جائیں تو طالب علم کی شادی کے لئے راہ خود بخود ھموار ھو جائے گی اور آسانی سے شادی ھو سکے گی ۔

 

 

 

آسان مسائل (قسط نمبر6)

رسم و رواج سے پاک شادی
ایک راستہ یہ بھی ھے کہ دوران تعلیم عقد کر لیں اور تعلیم کی تکمیل کے بعد بقیہ مراسم انجام دیں تاکہ اس مدت میں جنسی کشش کی طغیانیوں سے محفوظ رھیں ۔

موقّت شادی
وہ لوگ جو مستقل طور سے شادی نھیں کر سکتے اور نہ صرف عقد پر اکتفا کر سکتے ھیں ان کے لئے اسلام نے وقتی شادی ( متعہ ) رکھا ھے ۔
جوانوں کی عفت کو باقی اور ان کی پرھیز گاری کو بر قرار رکھنے کے لئے اسلام نے ایک اور آسان شادی پیش کی ھے جس کو متعہ کھا جاتا ھے جس میں مدت معین کی جاتی ھے ۔ اس شادی سے انسان اخلاقی گراوٹ سے محفوظ رہ سکتا ھے ۔
حضرت علی علیہ السلام کا ارشاد ھے:
 اگر عمر متعہ کو حرام نہ کرتے تو نھایت درجہ بد بخت کے علاوہ کوئی اور بد کاری نہ کرتا “
مغربی دنیا کے وہ دانشور حضرات جو اپنے سماج کی بربادی سے متاثر ھیں اور رنجیدہ و غمگین ھیںوہ بھی اسلام کے اس قانون کو تسلیم کر تے ھیں ۔
برٹرانڈرسل ، جوانی کے زمانے کی جنسی مشکلات کی تحقیق کرنے کے بعد لکھتا ھے :” اس مشکل کا صحیح حل یہ ھے کہ شھری قوانین میں عمر کے اس حساس حصہ کے لئے وقتی شادی کو جگہ دی جائے جس میں عائلی زندگی کی طرح اخراجات کا بار نہ ھو تاکہ جوانوں کو مختلف غیر قانونی اور نا جائز کاموں سے روکا جا سکے اور طرح طرح کی روحانی و جسمانی بیماریوں سے بچایا جا سکے
جوان لڑکے ۔ لڑکیوں کو چاھئے کہ شادی سے پھلے ھوشیار اور بیدار رھیں تاکہ یہ جنسی کشش ان کی آزادی اور اختیار کو سلب کر کے انھیں خواھشات کا غلام نہ بنا دے ۔
جوانوں کو پھلے اس بات کی کوشش کرنا چاھئے کہ خدا کی ذات سے مدد حاصل کرتے ھوئے تقویٰ اور پرھیز گاری کو مستحکم کریں کیونکہ پاکدامنی کے لئے باطنی تقویٰ نھایت ضروری ھے کیونکہ اگر جوان میں تقویٰ کی طاقت نہ ھو گی تو شادی کے بعد بھی شیطانی خواھشات اس کو منحرف کر دے گی اور اس کے دامن کردار کو داغدار کر دے گی ۔
مولائے کائنات حضرت امیر المومنین علیہ السلام کا ارشاد ھے :
قبل اس کے کہ نفسانی خواھشات قوی ھوں ان پر غالب آجاؤ کیونکہ اگر وہ طاقتور ھو گئیں تو تم پرحکومت کریں گی اور تم کو پستیوں تک کھینچ لے جائیں گی پھر تم میں ان کے مقابلہ کی طاقت باقی نھیں رہ جائے گی
حضرت علی علیہ السلام نے یہ بھی ارشاد فرمایا :
جس پر شھوت غالب آجائے وہ غلام سے بدتر ھے
امید ھے کہ ھمارا معاشرہ اسلامی تعلیمات پر عمل کرتے ھوئے اور معارف اھلبیت (ع) کی پیروی کرتے ھوئے تمام غلط اور فرسودہ رسم و رواج سے شادی کو پاک و صاف قرار دے کر شادی کو آسان بنائے گا ۔ خدا کا لاکہ لاکہ شکر ھے کہ عصر جدید کے جوانوں کے دلوں میں نور اسلام کی کرنیں نظر آرھی ھیں ۔ امید ھے کہ اسلامی جوان بھت جلد غلط رسم و رواج اور بیھودہ شرائط کا لبادہ اتار پھینکے گا اور سامراج کی امیدوں کو خاک میں ملا دے گا نیز خالص اسلامی طرز پر اپنی ازدواجی زندگی کا آغاز کرے گا ۔

آسان مسائل (قسط نمبر7)

شادي کي برکتيں اور فوائد
رشتہ ازدواج ميں منسلک ہو کر ايک دوسرے کا شريک حيات اور جيون ساتھي بننا اور ’’خوشحال گھرانے‘‘ کي ٹھنڈي فضا ميں سانس لينا دراصل زندگي کے اہم ترين امور سے تعلق رکھتا ہے۔
شادي، مرد اور عورت دونوں کے روحاني آرام و سکون اور مل جل کر زندگي کي گاڑي کو دلگرمي کے ساتھ چلانے کا ايک وسيلہ ہے۔
يعني ايک دوسرے کي ڈھارس باندھنے، اطمينان قلب اور ايک ’’غمخوار‘‘ و ’’مونس‘‘ کي تلاش کا وسيلہ ہے کہ جس کا وجود مياں بيوي کي مشترکہ زندگي کا جزوِ لا ينفک ہے۔
شادي، انسان کي جنسي، شہوتي اور جبلّتي جيسي فطري ضرورتوں کا مثبت جواب دينے کے علاوہ توليد نسل اور صاحب اولاد ہونے جيسي زندگي کي بڑي خوشيوں کو بھي اپنے ہمراہ لاتي ہے۔
پس آپ شادي کے مادّي اور معنوي پہلووں پر توجہ کيجئے کہ جب ايک انسان شادي کو اس نظر سے ديکھتا ہے تو وہ شادي کو مبارک و مسعود امر اور مفيد حکم پاتا ہے۔
البتہ شادي کا سب سے اہم فائدہ ’’گھر بسانا‘‘ ہے جب کہ ديگر مسائل دوسرے درجے کے ہيں يا اس ’’گھر بسانے‘‘ والے امر کي مدد کرنے والے ہيں مثلاً توليد نسل يا بشري غرائز اور جبلّتوں کي سيرابي کا انتظام کرنا۔ نسلِ بشر کي ابتدا و بنياد، شادي ہے، عَالَم کي بقا شادي سے وابستہ ہے، تہذيب و تمدّن اور ثقافتيں شادي ہي کے ذريعے آنے والي نسلوں تک منتقل ہوتي ہيں اور سياسي اور ديگر جہات سے معاشروں کا استقلال و آزادي، شادي سے ہي منسلک ہے۔ غرضيکہ شادي اپنے دامن ميں بے شمار فوائد رکھتي ہے۔

آسان مسائل (قسط نمبر8)

شادی کی تاخیرکے بہت سے اسباب وعلل ہیں، مندرجہ ذیل چار اسباب خاص اہمیت کے حامل ہیں ۔

۱۔ شریک حیات کے انتخاب میں مشکلات کا سامنا ۔
سبھی جوان ان مشکلات سے دوچار ہوتے ہیں ۔
جیسا کہ ہم یہ بات جانتے ہیں کہ ان آخری سالوں میں شادیوں کی تعداد میں بہت کمی واقع ہوئی ہے ۔اور مقابلہ میں شادی کرنے کے سن و سال میں بہت زیادہ اضافہ ہوگیاہے ،خصوصا بڑے شہر اور متمدن شہر وں میں رہنے والے افراد اس بلا کازیادہ شکار ہیں ۔یہاں تک کہ شادیاں اتنی زیادہ عمر میں ہوتی ہیں کہ جوان اپنے تمام جوش و خروش اور تازگی کو گواں بیٹھتا ہے اور شادی کا مناسب و بہتر ین وقت جاچکا ہوتا ہے ۔
شادی کی تاخیرکے بہت سے اسباب وعلل ہیں، مندرجہ ذیل چار اسباب خاص اہمیت کے حامل ہیں ۔
۱۔ پڑھائی کی مدت کا طولانی ہونا ۔
۲۔ناجائز تعلقات یا روابط کا آسانی سے فراہم ہو جانا ۔
۳۔ دلخواہ ضرورتوں اور شادی کے سنگین اخراجات کا فراہم نہ ہونا ۔
۴۔ لڑکے لڑکیوں کا ایک دوسرے پر اعتماد نہ ہونا ۔

ہم اس مقام پر ابتدائی دو قسمیں جو زیادہ اہمیت رکھتی ہیںانہیں زیر بحث لائیں گے ۔
معاشرے کے بعض بزرگ افراد نے ان خطیر اسباب پر غور و فکر کرنے اور ایسے خطرناک اسباب سے مقابلہ کرنے کی بجائے جبری طور پر شادی کی پیشکس کی ہے ۔گویا غیر شادی شدہ افراد کے لیے ایک مالی جرمانہ رکھا جائے اور جوانوں کو زبردستی شادی کرکے ان کو لباس خانوادگی پہنے پر مجبورکر دیا جائے ۔یا مختلف اداروں میں جوانوں کوایک خاص عمر کی شرط کے ساتھ نوکری دی جائے اور انہیں اس مشکل سے نجات دلائی جائے ۔ یا کوئی سنگین سرزنش اور سزا ایسے جوانوں کے لیے مقرر کی جائے ۔
بعض جوانوں نے ہم سے یہ سوال کیا ہے کہ کیا آپ کی رائے میں اس طرح کے اقدامات اور کوششیں صحیح ہیں؟۔
ہماری رائے کے مطابق ” زبردستی شادی “ سے مراد اگر جوانوں کو اداروں میں ملازمت نہ دینے وغیرہ کے ذریعہ مجبور کیا جائے تو شاید یہ عمل وقتی طور پر تو کسی حد تک اثر انداز، لیکن یہ طریقہ اس مسئلہ کا بنیادی راہ حل نہیں ہو سکتا کہ شادی میں کمی جو ایک خطرناک مصیبت معاشرہ کو لاحق ہو رہی ہے اسکا خاتمہ کرسکے ۔ بلکہ بہت ممکن ہے غیر مطلوب عکس العمل کا سامنا کرنا پڑ جائے ۔
اصل میں ” شادی اور ” اجبار “ یہ دو کلمہ ایک دوسرے کے لیے متضاد ہیں ۔ اور یہ دونوں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتے ، ازدواج اجباری کی مثال زبردستی والی دوستی اور محبت کی ہے ( جو ناممکن ہے )۔
ازدواج (کے حقیقی معنی) جسم و روح کا ایک ایسا رابطہ ہے جو ایک مشترک زندگی کو سعادت و سکون کے ساتھ ایک اٹوٹ بندھن میں باندھتا ہے ۔ اسی لیے ضروری ہے کہ ازدواج ایسے حالات میں ہو کہ جہاں کاملا آزادی کا ماحول اور کسی قسم کی زوروز بردستی نہ پائی جاتی ہو ، یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ہر اس شادی یا نکاح کا مردود و باطل قراردیا ہے جو طرفین کی رضایت کے بغیر وجود میں آئے ۔
شادی فوجی ملازمت کی طرح نہیں ہے کہ مثلا کسی کو قانون کے حکم سے فوجی کیمپ میں لے جا کر اسے خاص کنٹرول کے ساتھ نظامی فنون سیکھنے کی ترغیب دلائی جائے ۔
تعجب کا مقام یہ ہے کہ اہل فن حضرات موجودہ مشکلات کی اساس و بنیاد کی معرفت کے بغیر کوشش کرتے ہیں کہ ان تمام مشکلات کو جو معاشرتی برائیوں کا نتیجہ ہے دور کریں ۔
میری نظر میں ان بحثوں کے بجائے اگرچہ قابل عمل بھی ہوں ہمیں چاہےے کہ ان فروع کی جڑوں تک پہنچیں اور انہیں اس طرح جلا دیا جائے کہ ایسی غیر طبیعی و غیر منطقی مشکلات معاشرے میں کبھی جنم لیں ۔
اس لیے ضروری ہے کہ ان چاروں مسائل پر گفتگو کی جائے جو ہمارے معاشرے میںیقینا اور مطلقا ازدواج کی کمی کے سبب بنتے ہیں ۔
جوانوں کی شادی میں پہلی اوربڑی مشکل پڑھائی کی مدت کا طویل ہونا ہے :
اگرچہ یہ بات محتاج بیان نہیں ہے کہ ہر آدمی فقط تحصیل علم ہی کی وجہ سے شادی شدہ زندگی سے فرارکرتاہے، بلکہ بہت سے جوان ایسے بھی ہیں کہ جو تحصیل علم سے فارغ ہو چکے ہیں ، پھر بھی غیر شادی شدہ ہیں یا پڑھائی چھوڑ ے ہوئے زمانہ گزر گیا مگر شادی نہیں کی ہے ۔
لیکن اس بات کا بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پڑھائی کی طویل مدت بھی بہت سے جوانوں کے لیے شادی میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے ۔
پڑھائی کی مدت ہر فن میں تقریبا
۱۸ سال یا کچھ کم ہوتی ہے لہذا اس دور میں ایک جوان کو پڑھائی سے آزاد ہونے کے لیے تقریبا ۲۵ سال کی عمر درکار ہے (فارسی کا محاورہ ہے جوانی مفید جستجو و تلاش کا نام ہے ) اس وقت اگر ہم لفظ جوانی کا صحیح اور واقعی معنی اسکے لیے استعمال کریں تو

( صحیح نہ ہوگا)گویا وہ جوانی کا بہترین حصہ چھوڑ چکا ہے اور اب جو اسکے پاس ( عمر کا حصہ )بچا ہے اسکی حیثیت ایسی ہے جیسے ایک صفحہ میں حاشیہ کی حیثیت ہوتی ہے ۔ اور ابھی آگے چل کر اس طالب علم کو اگر پڑھائی کی تکمیل کے لیے تخصص کرناہے تو اسکی عمر تقریبا ۳۵ سال ہو جائیگی۔
اب سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا شادی کو پڑھائی کے مکمل ہونے تک موقوف کیا جائے (خواہ پڑھائی کی تکمیل میں کتنا ہی وقت کیوں نہ لگ جائے )

یا اس رابطہ( کہ جب تک پڑھائی مکمل نہ ہو شادی نہیں کرنا چاہےے) کو ختم کردیا جائے اور جوانوں کو اس ناقبل برداشت شرط سے آزاد کر دیا جائے ؟

(اور شادی کر دی جائے ) جیسا کہ بعض دانشوروں کا کہنا ہے ۔
دوسری جہت سے اگر آپ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ ہر جوان طالب علم کے اخراجات ہوتے ہیںوہ صرف خرچ کرنا جانتا ہے اور اخراجات کی اسے ضرورت بھی ہوتی ہے جبکہ ابھی وہ کمانے کی حالت میں نہیں اور نہ ہی اسکی کوئی آمدنی کا ذریعہ ہوتا ہے بھلا ایسے عالم میں وہ شادی کیسے کر سکتا ہے اور اس سنگین کمر شکن بار کو کیسے اٹھا سکتاہے ۔؟
میری نظر میں اگر ہم ایک لمحے کے لیے آزادانہ تفکر کریں تو اس مسئلہ کا حل اس قدر مشکل نہیں ہے اس پر روشنی ڈالی جا سکتی اسکا حل یہ ہے کہ

: جوانوں کو چاہےے کہ پڑھائی کے دوران جب ایک مناسب عمر کو پہنچ جائیں تو اپنے والدین ، دوستوں اور ہمدرد افراد کے مشورے کے ساتھ اپنے لیے شریک حیات منتخب کریں اور ابتداء میں ایک جائز رشتہ قائم کرلیں (عقد نکاح اور مذہبی و قانونی مراسم کے ساتھ )کہ جسکے لیے بہت زیادہ تشریفات اور انتظامات کی ضرورت نہ ہو اور غیر معمولی اخراجات نہ کرنے پڑیں ۔ تاکہ لڑکا اور لڑکی یہ بات جان لیں کہ انکا ایک دوسرے سے جائز رشتہ ہے اور وہ آئندہ ایک دوسرے کے شریک حیات ہونے والے ہیں ۔ اور امکانات کے فراہم ہوتے ہی پہلی فرصت میں شادی و رخصتی کے بقیہ مراسم سادگی اور عزت و احترام کے ساتھ مکمل کرلےے جائیں ۔ اس طریقہ کار کا پہلا فائدہ یہ ہوگا کہ جوانوں کو روحانی سکون و اطمئنان حاصل ہوجائیگا ۔ اس کے نتیجہ میں ان کی زندگی میں ایک خاص روشنی پیدا ہوجائیگی۔ اور ساتھ ہی ساتھ یہ عمل ان کی وحشتناک شیطانی وسوسوں سے جو ایک غیر شادی شدہ جوان کوآئندہ کی زندگی کے حوالے سے نقصان پہنچاتے ہیں نجات دہندہ ثابت ہوگا ۔
ٍ اور یہ طریقہ جوانوں کو بہت سی اخلاقی کجرویوں سے محفوظ رکھ سکتاہے اور شادی کے امکانات فراہم ہونے کے بعد جو وقت ہم سفر کی تلاش میں صرف ہوتا ہے اسکی بچت کرتاہے ۔ نجات اور آزادگی کے ساتھ انکی زندگی کو ایک فطری مسیر پر گامزن ہونے میں مددگار ثابت ہوگا ۔اس طرح کا عمل اکثر جوانوں کے لیے ممکن ہے اگرجوانوں کے ساتھ انکے والدین فکر و تامل سے کا م لیں اور خود جوان بھی فکر سلیم کے ساتھ عمل کریں ۔ اگر یہ طریقہ معاشرے اور مجتمع میں صحیح طریقے سے عملی دنیا میں قدم رکھلے تو دیگر بہت سے مسائل جو جوانوں سے تعلق رکھتے ہیں خودبخود آسان ہو جائیںگے ۔
مختصر یہ کہ اس شرعی نطریقے (عقد نکاح) اور لڑکی لڑکے کے اس جائز رشتہ کی برقراری سے نوجوانوں کو اپنی کچھ جنسی ضرورتوں کے پورا کرنے کا بھی موقع مل جاتا ہے ۔اس لیے کہ یہ نام زد کا زمانہ ایک ایسا زمانہ ہے کہ جو شادی شدہ زندگی کی بہت سی خصوصیات کو اپنے دامن میں لےئے ہوئے ہے ۔ اور کسی حد تک جوانوں کی جنسی ضرورتوں کا بھی جبران کرتاہے ۔( اسبات کی شرح محتاح بیان نہیں ہے )
اور اس طریقے سے جوانوں کو جنسی کجرویوں اور فحاشیت کی گندگی سے بچایا جا سکتاہے جبکہ اس عمل سے لڑکے اور لڑکی کے اہل خانہ زیادہ اضافی اخراجات سے بھی بچے رہتے ہیں، بچے پیداہونے اور اسکے سبب اثر انداز ہونے والی مشکلات سے بھی محفوظ رہ سکتے ہیں ۔

دوسرا راستہ جوانوں کی پڑھائی کے ایام میں وہی راستہ ہے کہ شادی کے اقدامات رخصتی سمیت مکمل ہو جائیں، لیکن خاص روش کو اختیار کیا جائے جو آج کے دور میں بہت عام ہے ( اوربہت سے طریقے اسمیں شرعی اعتبار سے جائز بھی ہیں) وہ یہ کہ نطفے کے انعقاد سے پرہیز کیا جائے ( اگرچہ شادی کا ہدف اور ثمر بچہ ہی ہوتاہے )کیونکہ ان ایام میں اس طرح کے اخراجات ایک جوان طالب علم برداشت نہیں کر سکتا جو کہ اسکی پڑھائی کی تکمیل میں مشکل ایجاد کرتے ہیں ۔ لیکن یہ تمام بحث اس صورت میں نفغ بخش ہوگی کہ جب شادی کی رسم و رسومات بے ہودہ ،احمقانہ اور کمرتوڑدینے والے اخراجات سے خالی اور سادگی سے انجام دی جائیں ۔
در حقیقت اگر والدین اور خود جوان سعادت مندی و خوش بختی کے طلبگار ہیں تو انکے لیے یہ بہترین راستہ ہے ۔ پڑھائی کی تکمیل کا انتظار اور اسکے بعد اچھی ملازمت یا کاروبار کا انتظام،گاڑی کا بندوبست، دوسرے وسائل خانہ اور شادی کے نا قابل برداشت اخراجات کا انتظام وغیرہ ان تمام چیزوں کے انتظار کا نتیجہ جوانوں کی آلودگی اور ہزار وں انحرافات کے سوا کچھ اور نہیں نکلتا جب تک جوان کی عمر
۳۵ یا ۴۰ برس کے قریب ہو جاتی ہے جو سرکاری اعتبار سے انسان کی ریٹائرمینٹ عمر ہوتی ہے اس طرح کی شادیاں سو فی صد روحانی اور حقیقی معنی میں ناکام اور غیر طبیعی ہوجاتی ہیں ۔اسلئے کہ اس طرح کی شادی انسانیت اور اسکی ضرورتوں کے ساتھ کوئی ہم آہنگی نہیں رکھتی ہیں،اور نہ ہی شادی کے اصلی اور معین ہدف کو پورا کرتی ہیں ۔

آسان مسائل (قسط نمبر9)

اسرائيل کے ساتھ تجارتی لین دین کی شرعی حیثیت
قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا ہے کہ ایسے ہر سودے (لین دین) سے پرہیز کیا جائے جس سے اسرائيل کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
قائد انقلاب اسلامی نے اس سلسلے میں فتوی دریافت کئے جانے پر اپنے جواب میں فرمایا کہ اسلام اور مسلمانوں کو پہنچنے والے نقصان کے پیش نظر اسرائیل سے اشیاء کی درآمد اور خرید و فروخت (شرعا) جائز نہیں ہے۔
قائد انقلاب اسلامی نے ان مصنوعات اور اشیاء کی درآمد سے بھی اجتناب کرنے پر تاکید فرمائی جن کی فروخت سے صیہونی حکومت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
مسلم ممالک میں اسرائیل کے نمایندہ دفاتر کھولے جانے سے متعلق سوال کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ اس سے بھی چونکہ اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچ رہا ہے لہذا یہ بھی(شرعا) جائز نہیں ہے۔
آپ نے مزید فرمایا کہ امریکہ اور کینیڈا کی یہودی کمپنیوں کی مصنوعات کی فروخت کا فائدہ اگر اسرائیل کو پہنچ رہا ہے تو ان کمپنیوں کی مصنوعات کی خرید و فروخت بھی جائز نہیں ہے۔

 

 

 

 

 

[ سه شنبه هشتم بهمن 1392 ] [ 20:5 ] [ ذوالفقار علی فصیحی ]
فاطمه بنت محمد (۶۰۵ م. در مکّه - ۶۳۲ م. در مدینه)[۱] دختر محمد و خدیجه، همسر علی بن ابی‌طالب و مادر حسن و حسین سه امام نخست شیعه و یکی از پنج عضو آل عبا است.[۲] او از شخصیت‌های بسیار محترم برای تمامی مسلمانان (به‌ویژه شیعیان)[۱] است،[۲] در مورد روز دقیق تولد و مرگ او توافق چندانی نیست.

برخلاف منابع مذهبی بسیاری که در مورد فاطمه وجود دارد، گزارش‌های خالص تاریخی زیادی در مورد زندگی او وجود ندارد[نیازمند منبع]. اطلاعات خالص تاریخی در مورد فاطمه بسیار اندک می‌باشند و بیشتر گزارش‌ها تنها برگ‌هایی نامهم از زندگی وی را پوشش می‌دهد[نیازمند منبع] .منابع اهل سنت بر روی شخصیت فاطمه٬ به عنوان بانوی پرهیزکار با ایمان تأکید می‌کنند. این منابع به‌خصوص در مورد فاطمه به عنوان دختر پیامبر مسلمانان، زندگی زاهدانه او، و شخصیت او به عنوان الگوی تقوا تأکید دارند. وی یکی از چهارده معصوم در نزد شیعیان دوازده‌امامی است.

نام، لقب و کنیه

شیعیان بیش از ۵۰ نام برای او نام برده‌اند.[نیازمند منبع] ازجمله آن می‌توان به : ام‌الحسن، ام‌الحسين ام‌المحسن، ام‌الائمة و ام أبيها. نام‌هاى دیگری بنا به روايت ابو جعفر قمى عبارتند از: فاطمه، بتول، حصان، حره (بضم حاء و فتح راء با تشديد) سيده، عذرا، زهراء، حوراء، مباركه، طاهره، زكيه، راضيه، مرضيه، محدثه (بضم ميم و فتح حاء و دال با تشديد) مريم كبرا و صديقه كبرا ،نوريه ،سماويه و حانيه‏.

ریشه‌شناسی نام

فاطمه اسم فاعل است که از مصدر "ف ط م" گرفته شده ؛ فَطمَ در زبان عربی به معنی بریدن، قطع کردن و جدا شدن آمده‌است و اسم فاعل از این ریشه به معنی زنی که بچه دوساله را از شیر می گیرد معنی شده است [۴] [۵] [۶] [۷] [۸] [۹].اما در منابع حدیثی به صورت مفعولی یعنی جدا شده معنی گردیده. دانشمندان اهل سنت از جمله ابن حجر هیثمی و متقي الهندي و خطيب البغدادی از محمد حدیثی را نقل کرده اند که دلیل این نام گذاری را بیان کرده است: "إنّ اللّهَ عَزَّوَجَلَّ فَطمَ ابْنَتِي فاطِمَة وَوُلدَها وَمَنْ أَحَبًّهُمْ مِنَ النّارِ فَلِذلِكَ سُمّيَتْ فاطِمَة خداوند دخترم فاطمه و فرزندانش و هر کس که آنها را دوست داشته باشد را از آتش دوزخ جدا کرده است به این دلیل او فاطمه نامیده شده است." [۱۰] [۱۱] [۱۲]. در این حدیث و احادیث مشابه فاطمه به صورت مفعولی یعنی " جدا شده " بیان گردیده است.

زندگی نامه

برخلاف منابع مذهبی بسیاری که در مورد فاطمه وجود دارد، گزارش‌ها خالص تاریخی زیادی در مورد زندگی او وجود ندارد. اطلاعات خالص تاریخی در مورد فاطمه بسیار اندک می‌باشند و بیشتر گزارش‌ها تنها برگهایی نامهم از زندگی وی را پوشش می‌دهد.[۱۳]

کودکی و جوانی

در تاریخ تولد فاطمه دختر محمد اختلاف نظر وجود دارد (بین ۵ سال پیش از آغاز پیامبری محمد یا ۲ سال پس از آن)[۱۴] اما نظر دیگر سال ۶۰۵ میلادی یا ۵ سال پیش از آغاز دعوت محمد است.[۱۵][۱۶][۱۷] هر چند در صورت درست بودن این تاریخ، سن ازدواج فاطمه بالاتر از ۱۸ سال نشان داده می‌شود که این امر در سرزمین عربستان در آن دوران، غیر معمول به نظر می‌رسد.[۱۸] منابع اهل تشیع زمان تولد او را دیرتر از این تاریخ و بین ۲ یا ۵ سال پس از وحی اولین آیه‌ها (بعثت) عنوان می‌کنند.[۱۹] ولی در صورت درستی این تفاسیر، سن خدیجه مادر او در هنگام تولد فاطمه، بالاتر از ۵۰ سال خواهد بود. [۱۸] فاطمه در بسیاری موارد، چهارمین فرزند دختر محمد، پس از زینب، رقیه و ام کلثوم شمرده می‌شود، به عقیده برخی از محققان شیعه، او تنها دختر محمد است.[۲۰] فاطمه تنها فرزند محمد بود که به اندازه‌ای عمر کرد که فرزندانی از خود باقی بگذارد.[۱۳]

بعد از تولد فاطمه خدیجه پرستاری از فاطمه را شخصاً به عهده گرفت این برخلاف سنت معمول آن زمان بود که مردم مکه فرزندان تازه به دنیا آمده خود را به دایه‌هایی از روستاها و بادیه نشینان اطراف سپرده می‌شدند.[۲۱] او ایام جوانی را تحت حمایت والدین خود را در مکه و در دورانی که قریش مشکلات و رنجهای زیادی برای پدرش بوجود آورده‌بودند گذراند.[۱۸]

ازدواج

عمر و ابوبکر خواستار ازدواج با فاطمه بودند، اما محمد پیشنهاد ازدواج آن‌ها را نپذیرفت و گفت که «امر او با خدا است».[۲۲] علی به سبب فقرش جرأت پاپیش گذاشتن نداشت و این محمد بود که کار را بر علی آسان نمود. محمد به او گفت که علی صاحب زرهی است که اگر آن را بفروشد می‌تواند پول کافی برای مهر فاطمه تهیه نماید. علی با فروش زره و وسایلی دیگر و شتر یا میش حدود ۴۸۰ درهم فراهم نمود که مبلغ خیلی معمولی بود. به توصیه محمد یک سوم تا دو سوم مبلغ خرج عطریات شد و بقیه صرف خرید ضروریات منزل گردید. آنگاه محمد فاطمه را از قولی که به علی داده بود آگاه نمود. بگفته ابن سعد، فاطمه چیزی نگفت و محمد این را نشانه رضا دانست.[۱۸] اما مطابق سایر منابع فاطمه اعتراض می‌کند و محمد مجبور می‌شود که دخترش را اینگونه راضی کند که علی کسی است که از فضل و خویشاوندی و اسلام او آگاهی دارد و او اولین کسی بوده‌است که اسلام آورده‌است.[۱۸] دنیس صوفی روایت گلایه فاطمه در ازدواج با علی (و به دنبال آن برشمردن صفات خوب علی از جانب محمد) را در زمره روایت‌های مناقشه برانگیزی می‌داند که مقصود آشکار آن استخراج مدح برای علی است. علی مسکنی نه چندان دور از محمد برای فاطمه ساخت[۲۳]. اما فاطمه خانه‌ای نزدیکتر به پدر از علی خواست و به همین سبب یکی از اهالی مدینه بنام حارثه ابن النعمان خانه خود را به زوج جوان بخشید.[۱۸]

زندگی زناشویی با علی

رابطه زناشویی علی و فاطمه رابطه ویژه‌ای بود و تک همسری علی تا پایان عمر فاطمه نشانه‌ای بر این امر است. منابع اهل سنّت این کنجکاوی را -که چرا علی تک همسری را در زندگی با فاطمه اختیار کرده- با حدیثی توضیح می‌دهند که در آن علی از دختر ابو جهل خواستگاری می‌کند ولی پیامبر به او این اجازه را به این دلیل که باعث ناراحتی فاطمه می‌شود نمی‌دهد[۲۴]. به نوشته ایرانیکا بنوهشام ابن المغربه از قبیله قریش به علی پیشنهاد کرد تا با یکی از دخترانش ازدواج نماید. علی پیشنهاد را رد نکرد ولی هنگامی که خبر به محمد رسید محمد به دفاع از فاطمه پرداخت و گفت «فاطمه پاره تن من است» و «هرکس فاطمه را بیازارد مرا آزرده‌است». به نظر می‌رسد که همزمان علی از جُوَیر، دختر ابوجهل، خواستگاری کرده‌بود. در این هنگام محمد در بالای منبر اعلام کرد که او تنها در صورت طلاق دادن فاطمه می‌تواند با دختر ابوجهل ازدواج کند.[۱۸] [۱۳] به گفته دنیس صوفی سه نسخه مشهور این حدیث توسط مِسوَر بن مَخرَمه روایت شده‌اند که در هنگام وفات پیامبر حدود نه سال داشته‌است. او برخی از این روایت‌ها را در راستای بدنام کردن علی و برخی دیگر را در جهت تثبیت ایدئولوژی اهل سنّت می‌داند که در آن مرتبه فضیلت خلفای راشدین بر اساس ترتیب حکمفرمایی آنهاست (و خلیفه‌های قبل از علی از او برتر شمرده می‌شوند).[۲۵]

نویسندگانی مانند البلاذری در کتاب الانساب، ترمذی، بخاری در صحیح بخاری و یا احمد بن حنبل در کتاب مسند نقل می‌کنند که زندگی فاطمه با علی همراه با اختلافات و کشمکش‌هایی بین این زوج بود و رفتار علی با فاطمه همراه با «شدة» و «غلاظ» بوده‌است. در این موارد فاطمه برای شکایت پیش محمد می‌رفت و در چندین مورد محمد مجبور به دخالت شد.[۱۳] [۱۸]به گفته ورنا کلم (منقول از طبقات ابن سعد[۲۶])، فاطمه یک بار از درشتی کلام علی (شده) به پدرش برای میانجی گری رجوع کرد که در نتیجه آن علی سوگند یاد کرد دیگر کاری خلاف میل فاطمه انجام ندهد[۲۷].

دنیس صوفی معتقد است در روایت‌های شکایت بردن فاطمه به پیامبر، از فاطمه به عنوان وسیله‌ای برای بالا بردن شأن علی استفاده شده‌است. چرا که گلایه‌ها از علی مقدمه‌ای برای مدح علی می‌شوند. در واقع، هرگاه فاطمه مشکل و یا نگرانی در زندگی دارد، از تحسین علی برای آرام کردن او استفاده می‌شود. او با اشاره به اینکه صفات بر شمرده شده از علی در برخی از این احادیث مشابه صفاتی هستند که در احادیث مربوط به ازدواج برای متقاعد کردن فاطمه استفاده شده‌اند، این احادیث را صرفاً ابزاری روایی برای مدح علی می‌داند. به زعم او دلیل حذف نشدن این احادیث - با وجود تعارض با دیگر احادیث شیعه که در آن از ازدواج علی و فاطمه با عنوان الهی یاد می‌شود - همانا استفاده‌ای است که از این احادیث برای بالا بردن سیمای علی در دعوای شیعه و سنّی در مساله خلافت می‌شود.[۲۸].

گفته می‌شود یکی از تعابیر لقب ابوتراب (از القاب علی) این است که روزی پس از مجادله با فاطمه، علی بجای پاسخ به خشم فاطمه خاک بر سر خویش پاشانده‌است. پیامبر با دیدن این صحنه علی را ابوتراب نامید.[۱۸] [۲۷]

در مقابل برخی دیگر از منابع از جمله سیره ابن هشام و مسند احمد ابن حنبل که مکتب فقه حنبلی، یکی از فرق اربعهٴ سنت به وی منسوب بوده، می‌نویسند کنیه ابوتراب زمانی (از پیامبر اسلام) به علی عطا شد که علی هنوز ازدواج نکرده بود. به اعتقاد شیعه، ابو تراب از القابی بود که علی بدان افتخار می‌کرد.[۲۹]

به گفته جعفر شهیدی اگرچه موضوع میانجی‌گری محمد میان علی و فاطمه، در نوشته‌های تاریخ‏‎نویسان امروزی و در منابع اولیه (هم در منابع سنی، هم در منابع شیعه) آمده‌است، علمای شیعه همچون مجلسی و صدوق احتمال صحت این روایات را پائین دانسته‌اند. از دید آنان منش علی و فاطمه با یکدیگر چنان نبوده که میانشان چنان رنجشی رخ دهد که نیاز به میانجی افتد. به نوشته جعفر شهیدی، نسبت اختلاف میان علی و فاطمه بدان حد که کار به داوری محمد میان آنان بینجامد با اعتقاد شیعیان مبنی بر عصمت علی و فاطمه مغایرت دارد. جعفر شهیدی سندیت ماجرای خواستگاری را نیز «ضعیف» و «بدون پایه استوار» می‏‎داند، چرا که اصل روایت آمده در منابع اولیه همچون صحیح بخاری، متعلق به مِسوَر بن مَخرَمه‌است. راوی در آن زمان کودک بوده و الفاظی را به کار می‎‏برد که اشاراتی نامنطبق با دانسته‌ها دارد. (مثلاً زنده بودن ابوجهل در زمان ماجرا)؛ همچنین از دید شهیدی چنین روایتی که شِکوِهٔ محمد را از علی را با سخنرانی در میان عموم نشان دهد باید در منابع شایع‏‎تر از این باشد.[۳۰]

فقر و تنگدستی در سالهای اول ازدواج

دلیلی وجود ندارد که احادیث در مورد فقر فاطمه و علی را رد کرد. اما این فقط مربوط به سالهای اول ازدواج آنها بود. یعنی دوره‌ای که بسیاری از اعضای جامعه مسلمانان به مانند علی و فاطمه فقیر بودند. تنها پس از فتح خیبر بود که دوران فقر این زوج تمام شد. زیرا آنها توانستند بعنوان یکی از مسلمانان نمونه، سهمی از محصولات این واحه ثروتمند دریافت نمایند.[۱۸] استقامت فاطمه در برابر تنگدستی الگویی برای شیعیان است تا با ایمان به خدا به رویارویی با رنج‌های زندگی‌ بپردازند.[۳۱]

تسبیحات فاطمه

در سالهای اول ازدواج علی پول کمی کسب می‌کرد. او از چاه آب می‌کشید و مزارع دیگران را آبیاری می‌کرد. فاطمه نیز خود خدمتکاری نداشت و خود غلات را با دست آسیاب می‌کرد و بر اثر کار دستانش تاول زده بود. روزی علی خبر دار می‌شود که پیامبر چند برده دریافت کرده‌است. علی فاطمه را می‌فرستد تا یکی از این برده‌ها را از پدرش دریافت نماید. فاطمه پیش پدر می‌رود اما در خود این را نمی‌بیند که چنین درخواستی نماید. سرانجام علی خود به همراه فاطمه راهی منزل پیامبر می‌شود، اما در خواست او از طرف پیامبر رد می‌شود. پیامبر به آنها گفت که «او نمی‌تواند اجازه دهد که اصحاب صفه از گرسنگی رنج بکشند» و «من باید برده‌ها را بفروشم و پول آنها را صرف کمک به آنها کنم». پیامبر در عوض تسبیحی که به تسبیح فاطمه زهرا معروف است را به زوج جوان می‌آموزد. گویند علی هیچگاه پیش از خواب، گفتن این تسبیح را ترک نمی‌کرد. [۱۸] جعفر صادق امام ششم شیعیان درباره تسبیح فاطمه زهرا گفته است: «چون به خوابگاه خود رفتی، سی و چهار بار الله اکبر، سی و سه بار الحمد لله و سی و سه بار سبحان الله بگو و آیة الکرسی و دو سوره معوذتین را با ده آیه اول سوره صافات و ده آیه از آخرش بخوان. [۱۸]

فرزندان

حسن مجتبی در سال دوم هجری/ ۶۲۵ میلادی زاده شده‌است که در این صورت ازدواج فاطمه نمی‌تواند بعد از غزوه بدر بوده باشد. یا به روایتی در نیمه رمضان سال سوم هجرت بوده‌است. فاطمه حسین را پنجاه روز پس از تولد حسن باردار شد و در اولین روزهای ماه شعبان بسال چهارم هجرت به دنیا آورد. در کنار این دو پسر و فرزند مرده به دنیا آمده محسن، فاطمه دو دختر به دنیا آورد که به نام دو تن از عمه‌هایشان زینب و ام کلثوم نامگذاری شدند.[۱۸]

فعالیت‌های اجتماعی

بنظر می‌رسد که فاطمه تنها در سه فعالیت سیاسی مهم حضور داشته اشت که هر سه در تمام منابع شیعه و سنی ثبت‌شده‌است هر چند به روایات متفاوت مشارکت‌داشته‌است. نپذیرفتن محافظت از ابوسفیان پس از فتح مکه، دفاع شهامت‌مندانه او از علی پس از مرگ محمد و مخالفت با انتخاب ابوبکر به عنوان خلیفه و منازعات خشن با عمر، ادعای مالکیت وی بر اموال پدر و به چالش کشیدن ابوبکر بخصوص در مورد فدک و سهم خیبر که کلاً توسط ابوبکر پذیرفته نشد.[۱۳]بر خلاف زاهدان که امور دنیا را به کناری می‌‌نهند هم منابع تاریخی و هم منابع دینی مشارکت فعال فاطمه در منزل و در اجتماع را ثبت کرده اند. دانش حقوقی فاطمه و عدالتجویی او نشانه حضور وی در امور اجتماعی است.[۳۲]

اختلافات مالی فاطمه و ابوبکر

پس از مرگ پیامبر مسلمانان، کشمکشی بین ابوبکر از یک طرف و فاطمه و عباس (عموی محمد) بر سر اموال محمد بوجود آمد. این اختلاف بر سر اموالی مانند فدک و سهمی از خیبر بود. فاطمه و عباس ادعای تملک و به ارث رسیدن این اموال را داشتند. اما از طرف دیگر ابوبکر از دادن این اموال به آنان سر باز زد با این استدلال که پیامبر به او گفته‌است که این اموال او به ارث نمی‌رسد و باید صرف صدقه شود. بررسی احادیث نشان می‌دهد که در طی دو مرحله فاطمه در این مورد با ابوبکر به جدال پرداخت که در مرحله اول عباس نیز در این اختلاف حضور داشت. بطور طبیعی موضع شیعیان بر این است که این اموال متعلق به فاطمه‌است و آنها توسط ابوبکر غصب شده‌است.[۱۸] سید جعفر شهیدی، از افراد غیر شیعه‌ای همچون ابن ابی الحدید و نقیب بصری یاد می‌کند که به نقل رویداد خطبه فدکیه پرداخته‌اند. او با این استدلال که این افراد (اهل سنت معتزلی) سودی از جعل این روایات نمی‌بردند رویداد دعوای حقوقی فدک را صحیح می‌داند.[۳۳]

دنیس صوفی می‌نویسد «احادیثی که بر دخیل بودن فاطمه در رویدادهای پس از مرگ پیامبر دلالت دارند، با وجود جانب دارانه بودنشان حاوی مقداری حقیقت هستند. به این دلیل که اهل سنّت نتوانستند به طور کامل آنچه را که به وضوح برای باز سازی تاریخشان زیان آور بود محو کنند: این مساله که فاطمه با ابو بکر بر سر ضبط خلافت و املاک پیامبر دعوا داشته‌است، اینکه فاطمه هیچ گاه او را به خاطر کارهایش نبخشید، و اینکه مرگ او برای مدتی (احتمالاً به خواست خود فاطمه) مخفی نگاه داشته شد تا مانع سرپرستی ابو بکر از مراسم کفن و دفن فاطمه شود. چیزی که در این مورد کنایه آمیز است، این است که این پنجره کوچک به شخصیت فاطمه توسط اهل سنّت نادیده گرفته شده یا کوچک شمرده شده ولی توسط شیعیان بزرگ شده و بیش از اندازه روی آن تاکید شده‌است.»[۳۴]

رویداد خانه فاطمه
نوشتار اصلی: رویداد خانه فاطمه

رویداد خانه فاطمه (به عربی:حَرق دار)، به روایاتی اشاره می‌کند که بر اساس آنها ابوبکر پس از انتخاب شدن به عنوان خلیفه مسلمانان به همراه عده‌ای از همراهان از جمله عمر به قصد گرفتن بیعت به خانه علی می‌رود و در آنجا با مقاومت علی و فاطمه روبرو می‌شود. بنا بر نوشته منابعی مانند یعقوبی[۳۵] و بلاذری[۳۶] عمر در این واقعه «تهدید» می‌کند که اگر اجازه ورود به او ندهند خانه را به آتش می‌کشد.[۳۷] بعقیده لارا وسیا وگلییری، حتی اگر به این داستان شاخ و برگ داده شده باشد و جزئیاتی ساختگی به آن افزوده شده باشد، این داستان دارای ریشه‌ای تاریخی است.[۱۸] سید جعفر شهیدی، نویسنده شیعه، تهدید به آتش زدن را تایید می‌کند. از نظر او با توجه به اینکه شیعیان یا دسته‌های سیاسی موافق آنها در سنین اول هجرت نیرویی نداشته‌اند، جعل روایات مربوط به این رویداد ناممکن می‌نماید. به علاوه او بیان می‌دارد که برخی از این روایات در نوشتارهای مغرب اسلامی (اندلس) هم آمده‌است. اما در مورد اینکه «آیا بازوی دختر پیغمبر را با تازیانه آزرده‌اند»، یا «می خواسته‌اند با زور بدرون خانه راه یابند و او که پشت در بوده‌است، صدمه دیده» به صرف گفتن اینکه «در آن گیر و دارها ممکن است چنین حادثه‌هایی رخ داده باشد» بسنده نموده‌است.[۳۸]

به گفتهٔ دنیس صوفی، روایتِ طبری از گفته ابو بکر در بستر مرگ «کاش خانهٔ فاطمه را، اگر هم به قصد جنگ بسته بودند، برنگشوده بودم» به طور تلویحی به این معناست که خانه فاطمه ممکن بوده به زور باز شده باشد.[۳۹]

مرگ


بیماری و مرگ

پس از حجة الوداع محمد به فاطمه گفت که وی اولین نفر از خانواده‌اش است که پس از مرگ به وی ملحق خواهد شد؛محمد چند روز پس از آن درگذشت ؛ فاطمه بسیار غم زده گشت[۱۸]و پس از مدتی درگذشت. بعضی منابع اولیه چنین می‌نماید که در پایان عمر، او با ابوبکر که تقاضای عیادت او را داشته‌است، آشتی می‌کند. اما اکثریت منابع چنین می‌نویسند که او تا پایان عمر، از ابوبکر عصبانی بود؛به گفته دانشنامه اسلام فاطمه ۶ ماه پس از مرگ پدرش درگذشت.[۱۸]

بگفتهٔ قول غالب، مرگ او در آرامش بود. او خودش را با کمک همسرش شستشو می‌دهد و در آرامش به استقبال مرگ می‌رود. اما این در تضاد با روایتی است که در منابعی مانند یعقوبی آمده‌است. این منابع چنین می‌گویند که زنان قریش و همسران محمد به دیدن فاطمه می‌آیند. اما فاطمه به اسما بیوه جعفر ابن ابی طالب، می‌گوید که از ورود آنان جلوگیری کنند. زیرا فاطمه در وضع بسیار بدی بود و در اثر بیماری بسیار نحیف شده بود. به مانند سایر اتفاقات زندگی خصوصی فاطمه مرگ او نیز در هاله‌ای از ابهام است.[۱۸]

منابع و نویسندگان شیعه مانند روحانیان و مراجعی مانند بروجردی، روحانی، شاهرودی و حسین خراسانی معتقدند که فاطمه در اثر صدمات و جراحات وارده که در حین رویداد خانه فاطمه اتفاق افتاد و منجر به شکستگی پهلو و سقط جنین وی گردید، کشته شده‌است. در عین حال این نویسندگان بر این نظر دارند که فاطمه بین ۷۵ تا ۹۵ روز پس از مرگ محمد درگذشته‌است.[۴۰][۴۱][۴۲][۴۳][۴۴][۴۵][۴۶]

تدفین

به گفته دانشنامه اسلام اکثریت منابع اولیه تدفین فاطمه را شبانه، مخفی و بدون حضور ابوبکر و عمر می‌دانند. اما نقل قول‌هایی نیز وجود دارد که ابوبکر در مراسم تدفین حضور داشته و نماز میت را او بر فاطمه خوانده‌است.[۱۸]

دنیس صوفی معتقد است به دلیل تواتر روایت‌های ناراحتی فاطمه از ابو بکر، به نظر می‌رسد مراسم کفن و دفن فاطمه به خواسته خود او در شب انجام شده تا ابو بکر به عنوان رئیس جامعه نتواند با مراسم تشییع او کاری داشته باشد.[۴۷]

محل دفن

تقریباً تمام منابع موافق هستند که فاطمه در قبرستان بقیع دفن شده‌است و به نوشته دانشنامه اسلامی بعضی منابع محل قبر را نیز مشخص می‌کنند. به نوشته این منابع محل دفن فاطمه درکنار مسجد رقیه (نام زنی که مسجد را بنا کرده‌است) در گوشه دار عقیل (برادر علی)، به فاصله هفت ذراع از خیابان است. اما طبق گفته سایر منابع بعد از دفن یا مدتی بعد از آن دیگر محل دفن نامعلوم بود. المسعودی می‌نویسد که مقبره‌ای وجود داشته‌است که در کتیبه موجود در آن مقبره نام فاطمه و سه نفر دیگر از خاندان علی به عنوان صاحبان مقبره نوشته شده بود(مسعودی تنها کسی است که چنین جزییاتی را بیان می‌کند). اما المقدسی مقبره فاطمه را در فهرست مکانهایی قرار می‌دهد که در مورد آن اختلاف نظر وجود دارد اما محتمل است که فاطمه «فی الحجره» دفن شده باشد.[۱۸]

خصوصیات ظاهری و جسمانی

برخلاف خواهرش رقیه که منابع اولیه از زیبایی او سخن گفته‌اند، منابع در مورد ظاهر فاطمه سکوت کرده‌اند جز اینکه گزارش کرده‌اند که مانند محمد گام برمی‌داشته‌است. احادیثی در مورد رنجور و مریض بودن او را نمی‌توان قبول نمود و احتمالاً این احادیث به وضعیت‌هایی موقتی در زندگی فاطمه برمی گردد. اینکه فاطمه پنج بچه باردار شد، دوبار از مدینه به مکه رفت، و کار سخت او در خانه همه براین دلالت دارد که از سلامت در وضع جسمانی خوبی بسرمی‌برده‌است.[۱۸]

فاطمه در منابع مذهبی

منابع مذهبی در مورد فاطمه بسیار فراوان می‌باشد. فاطمه در منابع مذهبی از اعضای اهل بیت پیامبر مسلمانان شمرده می‌شود و یکی از پنج نفر موسوم به آل کسا (آل عبا) و از افرادی که وجود نورانی او هزاران سال پیش از خلقت جهان توسط خداوند بوجود آمده‌است.[۱۳]

در منابع اهل سنت بر روی شخصیت او به عنوان بانویی پرهیزکار با ایمان تاکید می‌شود. این منابع بخصوص بر دختر پیامبر مسلمانان، زندگی زاهدانه او، و الگوی تقوا تاکید دارند.[۱۳] طبق گفته ورنا کلم منابع اهل سنت همچنین نقل می‌کنند که محمد فاطمه را سرور زنان همه جهانیان خوانده است[۴۸].[۴۹] در برخی از منابع اشاره شده که او سرور زنان بهشتی [۵۰] (منهای مریم [۵۱]) و در برخی دیگر او سرور زنان همه عوالم[۵۲] است.[۵۳]

در نزد شیعیان دوازده‌امامی فاطمه شخصیتی آسمانی دارد، هرچند اولین گزارش‌ها و همچنین حدیث‌های منتسب به وی در مقایسه با سایر ۱۳ معصوم شیعه بسیار محدودتر می‌باشد. فاطمه به دلیل همسربودن با علی، نزد شیعیان جایگاه والایی دارد و به همین سبب بسیاری از روایات زندگی وی را با شکوه نشان می‌دهند.[۵۴] ابن عیاث و ابن بابویه نام او را به مانند نام سایر آل عبا برگرفته از یک نام قدسی می‌دانند (الفاطر=خالق) حسن العسکری و فرات بن ابراهیم می‌نویسند که از میان نام‌هایی که خدا به آدم (اولین انسان) آموخت نام آل عبا و من‌جمله فاطمه بود.[۱۳]

فاطمه به عنوان "مادر امامان"، جایگاه ویژه‌ای در بینش شیعه دارد. او به عنوان تنها فرزند بازمانده محمد، همسر علی و مادر حسن و حسین، دارای جایگاه منحصربه‌فردی بین شیعیان است. خلافت فاطمیان بر اساس نام او بنا شده‌است. تفکرات این فرقه در فرقه اسماعیلیه نیز ادامه یافت. بنا به دیدگاه شیعیان، فاطمه شخصیتی مطهر، معصوم و به عنوان الگویی برای زنان مسلمان مطرح است. در منابع شیعه، بر شفقت و بخشندگی‌اش در عین تنگدستی که داشت، تاکیدشده‌است.[۵۵]

در نوشته‌های دینی مانند نوشته‌های ابن‌بابویه و فرات بن ابراهیم تولد او معجزه‌گونه‌است. منشا او میوه‌ای است از بهشت که معمولاً سیب یا خرما دانسته می‌شود که محمد در هنگام معراج آنرا خورده‌است. بنابر حدیثی این میوه قبلاً با شهد و شیرینی که از بال جبرئیل منشا گرفته‌است تماس داشته‌است. به نوشته ابن رستم طبری در دلایل الامامه و حسین ابن عبدلوهاب در عیون المعجزات به همین دلیل بوده‌است که پیامبر مسلمانان همیشه می‌گفته‌است فاطمه مخلوقی آسمانی در قالب انسان است. او رایحه بهشت را دارد و نام او در بهشت موجود است (معمولاً منصوره). فاطمه با مادرش هنگامی که در رحم بوده سخن می‌گفته‌است. تمام بانوان پرهیزکار از جمله سارا، آسیه، صفورا و مریم مادر عیسی مسیح در هنگام تولدش حاضر بودند. این زنان به خصوص مریم همیشه با فاطمه گره خورده‌اند و البته فاطمه همیشه برتر از همه آنها می‌باشد. به نوشته ابن شهرآشوب فاطمه در هنگام تولد اسرار الاهی و وقایع آینده را بازگو کرد و در این هنگام دنیا غرق در نور می‌شود.[۱۳]

فاطمه در باورهای عامیانه و افسانه‌ها

برخلاف منابع تاریخی کمی که در مورد فاطمه در دسترس می‌باشد، درجه اهمیت فاطمه در باورهای عامه و داستان‌های موجود در جهان اسلام جالب توجه می‌باشد. به نوشته جین کالمارد در دانشنامه ایرانیکا، در اینگونه داستان‌ها معمولاً قسمتهای ناخوشایند در مورد زندگی فاطمه مانند کشمکش‌های وی با علی محو می‌شود و در عوض مواردی به سود وی مانند شجاعت او در هنگام رویارویی در برابر ابوبکر در مورد فدک بزرگ نشان داده می‌شود. به علاوه، این داستان‌ها انواع کرامات، معجزات، و حکایات در مورد تولد، نامزدی، ازدواج، بکارت، بارداری، مادری و قدرت فاطمه را به تفصیل شرح داده‌اند.[۵۶]

هانری کربن تناظری بین فاطمه در متون مذهبی و آناهیتا الههٔ باروری و آبهای روان ایران باستان مشاهده نموده‌است. ویلهلم ایلرز در مطالعاتش بر روی منابع شیعه بر این ارتباط تاکید و اشاره می‌کند که در این منابع آبهای بهشت و زمین و نمک جزیی از مهریه فاطمه بوده‌است. همچنین در اعتقادات عوامانه فاطمه و در آئین‌هایی که به باروری مرتبط است با عناصری که سمبل باروری هستند در ارتباط می‌باشد مانند رنگین کمان، گل یاسمن و انار.[۵۶]

در دوران دفاع ایران در برابر حمله عراق «یافاطمه الزهرا علیها سلام» بعنوان رمز چهار عملیات نیروهای ایران (عملیات فتح‌المبین در سال ۱۳۶۱، عملیات کربلای ۵ در سال ۱۳۶۵، عملیات والفجر ۸ در سال ۱۳۶۵، عملیات نصر ۷ در سال ۱۳۶۷)انتخاب گردیده بود. در کتاب خاکهای نرم کوشک پیرامون زندگی عبدالحسین برونسی خاطراتی از وی مبنی بر هدایت رزمندگان ایرانی در نبردهای سخت نقل شده‌است.[۵۷]



[ چهارشنبه چهارم اردیبهشت 1392 ] [ 23:59 ] [ ذوالفقار علی فصیحی ]
اَلسَّلامُ عَلى وَلِىِّ اللَّهِ وَ حَبیبِهِ؛

سلام بر ولى خدا و دوست او

اَلسَّلامُ عَلى خَلیلِ اللَّهِ وَ نَجیبِهِ ؛

سلام بر خلیل خدا و بنده نجیب او

اَلسَّلامُ عَلى صَفِىِّ اللَّهِ وَابْنِ صَفِیِّهِ

سلام بر بنده برگزیده خدا و فرزند برگزیده‌اش

اَلسَّلامُ عَلىَ الْحُسَیْنِ الْمَظْلُومِ الشَّهیدِ

سلام بر حسین مظلوم و شهید

اَلسَّلامُ على اَسیرِ الْكُرُباتِ وَ قَتیلِ الْعَبَراتِ

سلام بر آن بزرگوارى كه به گرفتاری‌ها اسیر بود و كشته اشكِ روان گردید

اَللّهُمَّ اِنّى اَشْهَدُ اَنَّهُ وَلِیُّكَ وَابْنُ وَلِیِّكَ وَ صَفِیُّكَ وَابْنُ صَفِیِّكَ الْفاَّئِزُ

خدایا من به راستى گواهى دهم كه آن حضرت ولىّ (و نماینده) تو و فرزند ولىّ تو بود و برگزیده‌ات و فرزند برگزیده‌ات بود كه كامیاب شد

بِكَرامَتِكَ اَكْرَمْتَهُ بِالشَّهادَةِ وَ حَبَوْتَهُ بِالسَّعادَةِ وَاَجْتَبَیْتَهُ بِطیبِ الْوِلادَةِ

به بزرگداشت تو، گرامیش كردى به وسیله شهادت و مخصوصش داشتى به سعادت و برگزیدى او را به پاكزادى

وَ جَعَلْتَهُ سَیِّداً مِنَ السّادَةِ وَ قآئِداً مِنَ الْقادَةِ وَ ذآئِداً مِنْ الْذادَةِ

و قرارش دادى یكى از آقایان (بزرگ) و از رهروان پیشرو و یكى از كسانى كه از حق دفاع كردند

وَاَعْطَیْتَهُ مَواریثَ الاَْنْبِیاَّءِ وَ جَعَلْتَهُ حُجَّةً عَلى خَلْقِكَ مِنَ الاَْوْصِیاَّءِ

و میراث‌هاى پیمبران را به او دادى و از اوصیائى كه حجت تو بر خلقت هستند قرارش دادى

فَاَعْذَرَ فىِ الدُّعآءِ وَ مَنَحَ النُّصْحَ وَ بَذَلَ مُهْجَتَهُ فیكَ

او نیز در دعوت مردم جاى عذر و بهانه‌اى (براى كسى) نگذارد و بی‌دریغ خیرخواهى كرد و جان خود را در راه تو داد

لِیَسْتَنْقِذَ عِبادَكَ مِنَ الْجَهالَةِ وَ حَیْرَةِ الضَّلالَةِ وَ قَدْ تَوازَرَ عَلَیْهِ مَنْ غَرَّتْهُ الدُّنْیا وَ باعَ حَظَّهُ بِالاَْرْذَلِ الاَْدْنى؛

تا برهاند بندگانت را از (گرداب) جهالت و نادانى و سرگردانى (در وادى) گمراهى و چنان شد كه همدست شدند بر علیه آن حضرت كسانى كه دنیا فریبشان داد.

وَ شَرى آخِرَتَهُ بِالثَّمَنِ الاَْوْكَسِ وَ تَغَطْرَسَ وَ تَرَدّى فى هَواهُ

و فروختند بهره (كامل و سعادت خود را) به بهاى پست ناچیزى و بداد آخرتش را در مقابل بهائى اندك و بى مقدار و بزرگى كردند و خود را در چاه هوا و هوس سرنگون كردند،

وَاَسْخَطَكَ وَاَسْخَطَ نَبِیَّكَ

و تو و پیامبرت را به خشم آوردند

وَ اَطاعَ مِنْ عِبادِكَ اَهْلَ الشِّقاقِ وَالنِّفاقِ وَ حَمَلَةَ الاَْوْزارِ

و پیروى كردند از میان بندگانت آنانى را كه اهل دو دستگى و نفاق بودند و كسانى را كه بارهاى سنگین گناه به دوش مى‌كشیدند

الْمُسْتَوْجِبینَ النّارَ فَجاهَدَهُمْ فیكَ صابِراً مُحْتَسِباً حَتّى سُفِكَ فى طاعَتِكَ دَمُهُ وَاسْتُبیحَ حَریمُهُ

و بدین جهت مستوجب دوزخ گشته بودند آن حضرت (كه چنان دید) با شكیبائى و پاداش جوئى با آنها جهاد كرد تا خونش در راه پیروى تو ریخت و حریم مقدسش شكسته شد

اَللّهُمَّ فَالْعَنْهُمْ لَعْناً وَبیلاً وَ عَذِّبْهُمْ عَذاباً اَلیماً

خدایا آنان را لعنت كن به لعنتى وبال دار و عذابشان كن به عذابى دردناك

اَلسَّلامُ عَلَیْكَ یَابْنَ رَسُولِ اللَّهِ اَلسَّلامُ عَلَیْكَ یَابْنَ سَیِّدِ الاَْوْصِیاَّءِ

سلام بر تو اى فرزند رسول خدا، سلام بر تو اى فرزند آقاى اوصیاء

اَشْهَدُ اَنَّكَ اَمینُ اللهِ وَابْنُ اَمینِهِ عِشْتَ سَعیداً وَ مَضَیْتَ

گواهى دهم كه به راستى تو امانتدار خدا و فرزند امانت‌‌دار اویى سعادتمند زیستى و ستوده از دنیا رفتى

حَمیداً وَ مُتَّ فَقیداً مَظْلُوماً شَهیداً وَ اَشْهَدُ اَنَّ اللَّهَ مُنْجِزٌ ما وَعَدَكَ

و گمگشته و ستمدیده و شهید درگذشتى و نیز گواهى دهم كه خدا به راستى وفا كند بدان وعده‌اى كه به تو داده،

وَ مُهْلِكٌ مَنْ خَذَلَكَ وَ مُعَذِّبٌ مَنْ قَتَلَكَ وَ اَشْهَدُ اَنَّكَ وَفَیْتَ بِعَهْدِاللهِ

و به هلاكت رساند هر كه را كه دست از یاریت برداشت و عذاب كند كسى كه تو را كشت و گواهی دهم كه تو به خوبى وفا كردى به عهد خدا،

وَ جاهَدْتَ فى سَبیلِهِ حَتّى اَتیكَ الْیَقینُ فَلَعَنَ اللهُ مَنْ قَتَلَكَ،

و جهاد كردى در راه او تا مرگت فرا رسید خدا لعنت كند كسى كه تو را كشت

وَ لَعَنَ اللهُ مَنْ ظَلَمَكَ وَ لَعَنَ اللَّهُ اُمَّةً سَمِعَتْ بِذلِكَ فَرَضِیَتْ بِهِ

و خدا لعنت كند كسى كه به تو ستم كرد و خدا لعنت كند مردمى كه شنیدند جریان كشتن و ستم تو را و بدان راضى بودند،

اَللّهُمَّ اِنّى اُشْهِدُكَ اَنّى وَلِىُّ لِمَنْ والاهُ وَ عَدُوُّ لِمَنْ عاداهُ بِاَبى اَنْتَ وَ اُمّى یَابْنَ رَسُولِ اللَّهِ.

خدایا من تو را گواه مى‌گیرم كه من دوست دارم هر كه او را دوست دارد و دشمنم با هر كه او را دشمن دارد پدرم و مادرم به فدایت اى فرزند رسول خدا.

اَشْهَدُ اَنَّكَ كُنْتَ نُوراً فىِ الاَْصْلابِ الشّامِخَةِ وَالاَْرْحامِ الْمُطَهَّرَةِ،

گواهى دهم كه تو به راستى نورى بودى در پشت پدرانى بلند مرتبه و رحم‌هایى پاكیزه

لَمْ تُنَجِّسْكَ الْجاهِلِیَّةُ بِاَنْجاسِها وَ لَمْ تُلْبِسْكَ الْمُدْلَهِمّاتُ مِنْ ثِیابِها،

كه آلوده‌ات نكرد اوضاع زمان جاهلیت به آلودگی‌هایش و در برت نكرد از لباس‌هاى چركینش

وَ اَشْهَدُ اَنَّكَ مِنْ دَعاَّئِمِ الدّینِ وَ اَرْكانِ الْمُسْلِمینَ وَ مَعْقِلِ الْمُؤْمِنینَ،

و گواهى دهم كه به راستى تو از پایه‌هاى دین و ستون‌هاى محكم مسلمانان و پناهگاه مردمان با ایمان هستی

وَ اَشْهَدُ اَنَّكَ الاِْمامُ الْبَرُّ التَّقِىُّ الرَّضِىُّ الزَّكِىُّ الْهادِى الْمَهْدِىُّ،

و گواهى دهم كه تو به راستى پیشواى نیكوكار با تقوا و پسندیده و پاكیزه و راهنماى راه یافته‌اى

وَ اَشْهَدُ اَنَّ الاَْئِمَّةَ مِنْ وُلْدِكَ كَلِمَةُ التَّقْوى وَ اَعْلامُ الْهُدى

و گواهى دهم كه همانا امامان از فرزندانت روح و حقیقت تقوا و نشانه‌هاى هدایت

وَالْعُرْوَةُ الْوُثْقى وَالْحُجَّةُ على اَهْلِ الدُّنْیا وَ اَشْهَدُ اَنّى بِكُمْ مُؤْمِنٌ

و رشته‌هاى محكم (حق و فضیلت) و حجت‌هایى بر مردم دنیا هستند و گواهى دهم كه من به شما ایمان دارم

وَ بِاِیابِكُمْ مُوقِنٌ بِشَرایِعِ دینى وَ خَواتیمِ عَمَلى وَ قَلْبى لِقَلْبِكُمْ سِلْمٌ،

و به بازگشتتان یقین دارم با قوانین دینم و عواقب كردارم و دلم تسلیم دل شما است

وَ اَمْرى لاَِمْرِكُمْ مُتَّبِعٌ وَ نُصْرَتى لَكُمْ مُعَدَّةٌ حَتّى یَاْذَنَ اللَّهُ لَكُمْ،

و كارم پیرو كار شما است و یاریم برایتان آماده است تا آن كه خدا در ظهورتان اجازه دهد

فَمَعَكُمْ مَعَكُمْ لامَعَ عَدُوِّكُمْ صَلَواتُ اللهِ عَلَیْكُمْ وَ على اَرْواحِكُمْ،

پس با شمایم نه با دشمنان شما، درودهاى خدا بر شما و بر روان‌هاى شما

وَ اَجْسادِكُمْ وَ شاهِدِكُمْ وَ غاَّئِبِكُمْ وَ ظاهِرِكُمْ وَ باطِنِكُمْ.

و پیكرهایتان و حاضرتان و غائبتان و آشكارتان و نهانتان.

آمینَ رَبَّ الْعالَمینَ.
[ پنجشنبه چهاردهم دی 1391 ] [ 21:44 ] [ ذوالفقار علی فصیحی ]
[ جمعه هفدهم آذر 1391 ] [ 17:4 ] [ ذوالفقار علی فصیحی ]
تأثیر حاكمیت سیاسی جامعه بر زندگی شخصی و اجتماعی افراد انكار شدنی نیست. بنابر این حاكمیت سیاسی در اختیار هر گروهی قرار گیرد افكار و اندیشه‏های آن گروه در جامعه رواج پیدا می‏كند و به طور غیرمستقیم افراد را نیز تحت تأثیر قرار می‏دهد. از این رو به دست آوردن عزت سیاسی یا حفظ و نگهداری آن در اندیشه امام حسین(علیه‏السلام) شاخصه‏هایی دارد كه اكنون به بررسی آنها می‏پردازیم:

صبر و مقاومت

كار و تلاش در هر زمینه‏ای بدون تحمل مشكلات آن به نتیجه نمی‏رسد، به ویژه اگر كاری منافع عده‏ای را تهدید كند مشكلات آن بیشتر خواهد بود. در قلمرو سیاست، به دلیل تضاد منافع افراد و گروهها و جاذبه‏های قدرت و حكومت، مشكلات بیشتر است؛ در نتیجه به ثمر رساندن كار و آفرینش عزت و افتخار نیازمند صبر و مقاومت است و باید هزینه آن را پرداخت. عده‏ای به اشتباه تصور می‏كنند كه چون برای خدا كار می‏كنند باید مشكلات كار از كانال‎های غیرعادی حل شود و نباید برای كار هزینه پرداخت كنند، در حالی كه سیدالشهدا برای بازگرداندن افتخار و عزت اسلام و مسلمانان حاضر شد سنگین‏ترین هزینه را در روز عاشورا بپردازد و پیامدهای آن را كه اسارت خاندان رسالت بود به عنوان هزینه سنگین به دست آوردن عزت بپذیرد. امام حسین(علیه‏السلام) در خطابه مشهورش نسبت به دانشمندان اسلامی این شاخصه عزت را چنین بیان می‏فرماید:

«اگر بر مشكلات صبر می‏كردید و هزینه كار برای خدا را پرداخت می‏كردید كارهای الهی در اختیار شما قرار می‏گرفت و اجرای آنها در اختیار شما بود و حل و فصل آنها با شما بود.»(1)

 وحدت و همبستگی

انسان در انجام هر كاری نیازمند به انگیزه است و در كارهای جمعی هر چه انگیزه‏ها به هم نزدیك‏تر باشد وحدت بیشتری ایجاد خواهد شد و با وجود وحدت هم مشكلات كار كمتر خواهد شد و هم موانع زودتر برطرف می‏شود. یكی از شاخصه‏های عزت سیاسی وحدت نیروهاست، به ویژه كه دشمن نیز تمام تلاش خود را به كار خواهد گرفت كه وحدت نیروها را بشكند تا به اهداف خود برسد. امام ‏حسین(علیه‏السلام) در یك تحلیل، حاكمیت سیاسی بنی‏امیه در سركوب نیروهای وفادار به اسلام را معلول تفرقه می‏داند و در خطابه مشهورش به دانشمندان اسلامی و شخصیت‎های سیاسی چنین می‏فرماید:

«مجاری امور باید به دست دانشمندان به احكام الهی باشد كه امین خدا بر حلال و حرام او هستند، ولی شما این جایگاه را از دست داده‏اید و این بدین سبب است كه از حق جدا گشته‏اید و وحدت شما شكسته شده است.»(2)

اگر بر مشكلات صبر می‏كردید و هزینه كار برای خدا را پرداخت می‏كردید كارهای الهی در اختیار شما قرار می‏گرفت و اجرای آنها در اختیار شما بود و حل و فصل آنها با شما بود.

 عدم دلبستگی به دنیا

محبت و دلبستگی به چیزی دو اثر منفی در روح انسان بر جای می‏گذارد: اول آنكه مانع از آن می‏شود كه انسان زشتی‎های آن چیز را درك كند و دیگر این كه زیبایی‎های آن را بیشتر از آنچه هست می‏بیند.

وابستگی از هر نوع آن عزت انسان را از بین می‏برد و انسان را به ذلت می‏كشاند. هر چه وابستگی انسان بیشتر باشد ذلت او نیز افزون‏تر خواهد بود. در عرصه سیاست اولین شرط مبارزه آمادگی برای هزینه كردن جان خود می‏باشد و كسانی كه در مبارزات سیاسی این آمادگی را ندارند به طور قطع شكست خواهند خورد و عزت خود را از دست خواهند داد. عشق به ماندن در دنیا و زیبا دیدن دنیا بیش از آنچه هست، باعث ذلت انسان در قلمرو سیاست می‏شود. امام حسین(علیه‏السلام) در تحلیلی در خطابه مشهورش خطاب به دانشمندان اسلامی عامل ذلت آنان را عشق به ماندن در دنیا و زیباتر دیدن دنیا می‏داند. به این كلام توجه كنید:(3)

«علت مسلط شدن بنی‏امیه بر امور جهان اسلام فرار شما از مرگ و شیفته شدن شما به زندگی است كه به طور قطع باید روزی آن را رها كنید.»(4)

نوحه، محرم، قاسم

تسلیم نشدن در برابر قدرت‎ها

از ویژگی‎های مهم سیاست و مسائل سیاسی تغییر سریع شرایط و پیرو آن، دگرگونی پرشتاب موضوعات سیاسی و موضعگیری در برابر آنهاست، به طوری كه گاه در كمتر از یك روز به دلیل دخالت عوامل پیش‏بینی نشده و غیرقابل كنترل، شرایط تا 180 درجه دگرگون شده، مبارزان سیاسی را با بحران تصمیم‏گیری روبه‏رو می‏كند.

در چنین شرایطی بسیاری از مبارزان نیز متناسب با دگرگونی شرایط تغییر موضع داده، آن را درایت و هوشمندی سیاسی قلمداد می‏كنند بدون اینكه توجه داشته باشند این عقب نشینی از اصول می‏باشد. یكی از شاخصه‏های عزت سیاسی در نگاه امام‏ حسین(علیه‏السلام) این است كه هر چند شرایط سیاسی علیه انسان تغییر كند، انسان مسلمان باید پایبند به اصول مانده، نشان دهد كه حاضر است هزینه سنگین آن را كه فدا كردن جان باشد نیز بپردازد. در روز عاشورا در آخرین لحظات زندگی كه امام اصحاب، یاران و فرزندان خود را در راه اعتلای اسلام و عزت مسلمانان هزینه كرده بود و مشغول اتمام حجت با آن مردم سیاسی كار بود و تغییر موضع و عقب‏نشینی آنان از اصول را به آنان گوشزد می‏كرد، فرمود: «لا والله‏ لا اعطیهم بیدی اعطاء الذلیل»(5)؛ هرگز، سوگند به خدا با ذلت و خواری با آنان ملاقات نخواهم كرد.

حضور در همه صحنه‏ها

مسلمان باید تلاش در عرصه سیاست را برای حاكمیت دین و اجرای احكام آن و گسترش عدالت و از بین بردن مظاهر فساد و ... تكلیف خود بداند و همان طور كه در حوزه عبادات خود را مكلف می‏داند در این عرصه نیز خود را مكلف بداند و در هر شرایطی متناسب با آنان شرایط موضعگیری كند و تكلیف خود را انجام دهد و این یكی از شاخصه‏های عزت است.

مطالعه زندگی امام حسین(علیه‏السلام) از روزی كه نوجوانی بود در عصر خلیفه دوم تا پایان عمر شریفش این مسئله را به خوبی به اثبات می‏رساند، چنان كه دهها سند تاریخی گویای این مهم است:

روزی خلیفه دوم در سخنرانی خود گفت: من سزاوارترین مردم برای حاكمیت بر مسلمانان هستم؟!

امام حسین(علیه‏السلام) كه در آن دوران نوجوانی بود در برابر سخنرانی خلیفه زبان به اعتراض گشود و سخنرانی او را قطع كرد و به مناظره‏ای تبدیل شد كه مایه شرمساری خلیفه گشت، كه مشروح آن را باید در منابع تاریخی و حدیثی مطالعه كرد.(6)

در نامه‏های اعترض آمیز امام به معاویه اینگونه موضعگیری‏ها فراوان است.

امام حسین(علیه‏السلام) یكی از شاخصه‏های عزت سیاسی را حضور در همه صحنه‏ها می‏دانست و خود نیز در بحرانی‏ترین شرایط یعنی ظهر عاشورا حاضر نشد از اصول خود عقب‏نشینی كند و در پاسخ قیس بن اشعث كه از او خواست در برابر حكومت بنی‏امیه تسلیم شود و صحنه سیاست را ترك كند فرمود: «لا والله ... لا افرّ فرار العبید»(7)؛ هرگز به خدا سوگند ... همانند بردگان نخواهم گریخت.

 

[ دوشنبه سیزدهم آذر 1391 ] [ 9:45 ] [ ذوالفقار علی فصیحی ]

 در دوران معاويه

بدون شك چهرهاي همچون امام حسين (عليه السلام) كه از پستان رسالت شير خورده ودر دامن ولايت پرورش يافته است نمي توانست در برابراعمال معاويه بي تفاوت باشد ولي مصلحت اسلام ايجاب مي كرد كه روش برادر را در پيش مي گيرد  تنها گاهي در برابر ياوه گوييهاي او مي ايستاد. امام حسين(عليه السلام) پس از شهادت برادرش نزديك به ده سال بامعاويه معاصر بود و در اين مدت سياست آن حضرت در برابردستگاه سلطنت معاويه ادامه سياست برادرش امام حسن(عليه السلام) بود . قيام در برابر مفاسد و جنايات معاويه را در شرايط موجود به مصلحت اسلام نمي ديد ولي سكوت را نيز جايز نمي دانست و در هر فرصت با نوشتن نامه يا برخورد حضوري  سياست معاويه را محكوم مي كرد .            

   زمينه سازي براي قيام

مردم عراق بر اثر تحمل جنگهاي متعدد عملا از جنگ خسته شده بودند و هر نوع برخورد نظامي با نظام حاكم را بي ثمر مي دانستند ودر نتيجه تبليغات سوء و فريبنده معاويه دل به صلح و سازش با حكومت وي بسته بودند و آن را مشروع مي دانستند .يكي از مهمترين اقدامات امام حسين (عليه السلام) در اين رابطه اين بود كه چه در رابطه با صلح و پيمان شكنيهاي معاويه و چه در مورد موضوعات ديگر واقيتهارا صريح و بي پرده براي مردم بيان كرد و افكار آنان را براي درك اين واقيتهاي تلخ و قيام و مبارزه بر ضد آن در شرايط مناسب آماده ساخت . نامه هاي افشاگرانه امام (عليه السلام) به ((معاويه)) سخنرانيهاي عمومي كه در موسم حج در حضور انبوه حاجيان ايراد مي كرد و بياناتي كه درجسات خصوصي با ياران خود و بزرگان كوفه و مدينه داشت نمونه هائي از اين موضع امام (عليه السلام) مي باشد .                                   

      دوران يزيد    

پس از مرگ ((معاويه)) فرزندش ((يزيد)) به سلطنت رسيد . وي در نخستين اقدامات خود تصميم گرفت دوباره از همه مسلمانان به ويژه از افرادي كه از پذيرش وليعهدي او سرباز زده بودند بيعت بگيرند . ((يزيد)) علاوه بر بخشنامه عمومي كه براي ((وليدبن عتبه)) فرماندار مدينه فرستاد نامه ديگري ضميمه آن كرد . ((وليد)) به محض دريافت نامه ((مروان)) را فراخواند و با وي به مشورت پرداخت . نتيجه اين شد كه پيش از انتشار خبر مرگ معاويه در ميان مردم افراد ياد شده در نامه را احضاركرد و از آنان بيعت بگيرند . ((وليد)) پيكي فرستاد و افراد ياد شده را به ((دارالامارة)) فراخواند .

  دومين برخورد با مروان

امام حسين (عليه السلام) صبح همان شبي كه به ((دارالامارة)) احضار شده بود براي كسب اطلاعات و اخبار از خانه بيرون آمد و ((با مروان)) بر خورد كرد . گفتگوي امام حسين (عليه السلام) با ((مروان)) به طول انجاميد و سرانجام مروان با چهرهاي خشمناك از امام (عليه السلام) جدا شد

تغيير شكل حكومت وعكس العمل امام
شش سال بعد( سال 56هجري ) به دستور معاويه مردم بايزيد بعنوان وليعهداو بيعت كردندواين فكركه بايد خلافت يابه تعبير ديگرحكومت وسلطنت موروثي شود درزمان معاويه شكل گرفت وخلفاي گذشته هيچ يك به چنين كاري تن نداده بودند.
سپس او نامه اي به امام ( عليه السلام ) نوشت كه درقسمتي ازآن آمده بود :
...درباره فعاليتهاي شما خبرهايي به من رسيده كه اگر راست باشد بايد بگويم كه هرگز چنين انتظاري ازشما نداشتم واگر نادرست باشد بجاست ، چرا كه شمارا از اينگونه امور دورمي بينم . به عهدي كه با خدا بسته اي وفا كن و مرابرآن مداركه مقابله به مثل كنم . اگر مرا و حكومت مرا تأييد نكني من هم به تكذيب توخواهم كوشيد و اگر ازسرنيرنگ با من رفتار كني همان رفتار را با تو خواهم داشت ازخدا بترس تا امت اسلام را گرفتار اختلاف و اسير فتنه نسازي .
درقسمتي ازجواب امام ( عليه السلام ) به معاويه آمده است :
درنامه ات نوشته بودي كه اگر مرا انكاركني تو را انكارخواهم كرد واگر با من مكركني با تومكرخواهم كرد ، من اميدوارم كه حيله توآسيبي به من نرساند و زيان فريب تو بيشتر ازهمه نصيب تو گردد زيرا تو برمركب جهل خويش سوارشده اي و برشكستن پيمان خويش پا فشاري ميكني بجان خودم سوگند كه توبه پيمانهايي كه بسته بودي وفا نكردي وباكشتن افراد خدا ترس و نيكوكار ، تمامي آن پيمانها را بي اثر ساختي .
...هان اي معاويه خود را به قصاص بشارت ده و به روز حساب يقين داشته باش وآگاه باش كه دركتاب خداي تعالي اعمال كوچك وبزرگ بندگانش آمده است وخدا هرگز فراموش نخواهد كرد كه دوستانش را اسيركردي وبا بهانه هاي واه? به نقاط دور افتاده تبعيد كردي و براي فرزندت يزيد به ناحق ازمردم بيعت گرفتي درحاليكه اوجوان خامي است كه آشكارا شراب مي نوشد وبازي باسگ را دوست دارد من تو را مي بينم درحاليكه با اين رفتارهاي ناشايست دين و دنياي خود را به نابودي كشيدي ... .
پس از آن كه معاويه درنيمه رجب سال 60 هجري ازدنيا رفت فرزندش يزيد ( لع ) بجاي او بر مسند خلافت نشست.
اوطي نامه اي به وليدبن عتبه حاكم مدينه دستورداد كه :
حسين بن علي وعبدالله بن زبير را احضار كن و ازآنها براي خلافت من بيعت بگير واگر ازبيعت خود داري كردند سرآنها را ازبدن جدا كن و به دمشق براي من بفرست . و از مردم نيز بيعت بگيرو اگر كسي نپذيرفت حكمي را كه بيان كردم درباره آنها اجرا كن ، والسلام .
وليد پس از خواندن نامه يزيد به خود مي گفت : اي كاش كه از مادرنزاده بودم زيرا كه مرا به امربزرگي وادار كرده است و من هرگز آنرا انجام نخواهم داد .
چون وليد بن عتبه ، حاكم مدينه ، نامه يزيد را براي امام قرائت كرد ، امام ( عليه السلام ) فرمود : من هرگز با يزيد بيعت نخواهم كرد .
مروان كه ازاين طرز برخورد امام ناراضي بود گفت : با اميرالمومنين بيعت كن امام حسين ( عليه السلام ) فرمود: واي برتوكه سخن به گزاف بگفتي ، چه كسي يزيد را برمؤمنين اميركرده است ؟
مروان كه ازخشم ، عنان اختيار را ازدست داده بود برخاست و درحاليكه قبضه شمشيررا درمشت مي فشرد به وليد گفت : فرمان ده تا مأموران حكومتي سرازبدن اوجدا كنند پيش ازآنكه ازخانه بيرون رود ومن خون او را به گردن مي گيرم.
دراين هنگام نوزده نفر از ياران جان بركف امام كه فرياد او را شنيده بودند با شمشيرهاي برهنه به قصر حكومتي حمله كردند و درحاليكه اطراف امام را گرفته بودند از دارالاماره خارج شدند .

كلياتي راجع به بني اميه :

بني اميه بر خلاف همه قبايل عرب تنها يك نڟاد نبودند بلكه مانند قوم يهود داراي يك طرز تفكر خاص و داراي نقشه شيطاني زيركانه بودند و با ظهور اسلام، بني اميه بيش از ديگران احساس خطر نمود و تا آنجا كه قدرت داشتند با اسلام جنگيدند تا زمانيكه مكه توسط پيامبر و سپاه اسلام فتح گشت و بعد از اينهمه، مبارزه با اسلام جايز ندانستند و مجبوراً اسلام ظاهري آوردند.

پيامبر در زمان خودشان هيچ كار كليدي و اساسي را به بني اميه واگذار نكردند. اما متأسفانه در زمان عمر (ل...) اولين مسئوليت سياسي را يكي از فرزندان ابوسفيان بعهده گرفت عمر، يزيد بن ابوسفيان (برادر معاويه معروف ) را والي شام نمود و بعد از او برادرش معاويه والي شام شد و تا آخر حكومت عثمان بر شامات حكومت كرد شامات آن موقع يعني (سوريه- تركيه لبنان فلسطين) كم حكومتي نبود در طول اين ساليان دراز، جاي پاي محمكي براي بني اميه پيدا شد و در آن زمان بني اميه، حاكمان شهرهاي اسلامي مخصوصا مصر، كوفه ، بصره شدند. حتي وزارت خود عثمان به دست دامادش يعني مروان بن حكم از دشمنان قسم خورده اسلام سپرده شد و خود معاويه هم كه فكر خليفه شدن را در ذهن مي پروراند روز به روز وضع خودش را تحكيم مي بخشيد .

 

معاويه تا زمان عثمان دو نيروي مهم در اختيار داشت:

 1ـ قدرت و پستهاي سياسي

 2ـ قدرت اقتصادي

با كشته شدن عثمان نيروي سومي ديگر در خدمت خودش گرفت و آن اينكه ، معاويه مرثيه داستان خليفه مقتول و مظلوم را مطرح كرد و احساس ديني و مذهبي گروه زيادي از مردم، مخصوصا مردم شامات را جريحه دار كرد و شعار (من قتل مظلوما فقد جعلنا لوليه سلطاناً اسراء 33) را سر دادند و با اين شعار صدها هزار نفر را به نفع مقاصد خود در اختيار گرفت.

 با اينكه معاويه خبر داشت كه قاتل عثمان چه اشخاصي هستند و مي دانست وقتي مسلمانان ريختند تا عثمان را به قتل برسانند علي (ع) به او آب و آذوقه رساند و فرزندان خود را مدافع او كرد كه خليفه كشي باب نشود و معاويه هم كه با نيروهاي عظيمش در شام بود وقتي عثمان از او استمداد مي كند او قادر بود كه مسلمانان را تار و مار كند ولي فكر كرد از كشته شدن عثمان بيشتر از زنده بودنش مي توان بهره برداري نمود لذا نشست تا خبر قتل عثمان رسيد و عثمان هم نصايح حضرت علي را گوش نكرد و فكر مي كرد كه سپاه شام مي رسد و او را نجات خواهند داد براي همين معاويه بعد از قتل عثمان، فرياد وا عثماناه سر داد و پيراهن عثمان را بر چوب كرد و بر روي منبر گريه كرد و اشك تمساح ريخت و اشكهايي بسيار از مردم گرفت.

بعد از شهادت حضرت علي (ع) معاويه خليفه مطلق مسلمين شد و قدررت چهارم خود را هم در اختيار گرفت و شخصيتهاي ديني و به اصطلاح امروز روحانيهاي درباري مانند ابوهريره را استخدام كرد و سپاهي به نام دين عليه مولي علي(ع) تجهيز نمود.

و بعد از شهادت علي (ع) دستور داد در منابر و خطبات علي (ع) را سبّ و لعن كنند حتي در مدارس به مدرسين تكليف شد و در كتابها چاپ شد تا بچه ها از كودكي مطالب جعلي ياد بگيرند از آن روز ، احاديث در مدح عثمان و مقداري در مدح شيخين شروع شد و علمايي كه مخالفت مي كردند را با مال و مقام مي خريد يا طرفداران خيلي جدي علي (ع) مانند حجربن عدي يا عمروبن حمق خزاعي را به شهادت مي رساند و با كمك روحانيون درباري آن زمان ، چنان مبارزه ، عليه اسلام و اهل بيت(س) را آغاز نمودند كه حتي در نماز جمعه هم سبّ و لعن كردن علي (ع) بخشنامه شد و اين عوامل بعنوان سنت سوء باقي ماند.

معاويه با يك ملايمت و بذل و بخشش فراوان، سران عرب و دانشمندان مهاجر و انصار را تا آنجا كه ممكن بود و فريفت و دور خود جمع كرد و وسائل راحتي آنها را فراهم نمود و در محيط شام يك حوزه علميه بظاهر آبرومند بر اساس ترويج اسلام و قرآن كه دور از سياست باشد را ساخت و متصديان آن را تشويق كرد و مردم عوام را از اين راه فريفت و با كمال هوشياري، مخالفين جدي و دانشمندان مخالف را زير نظر داشت و با سياستي بي رحمانه آنها را مسموم كرد و افسران سنگ دل و خونخواري را مانند بسربن ابي ارطاه كه استاد آدم كشي بود را بر جان و مال آنها حاكم كرد و دستگاه تبليغاتي بسيار وسيعي تشكيل داد كه اساس و بنيان آن، شعر شاعران، حديث محدثان، تفسير مفسران جعلي در رأس آن بود و هر روز هر چه را كه مي خواست از زبان آنان مخصوصاً ابوهريره و كعب الاحبار يهودي در بين مردم منتشر مي ساخت و همين روشهاي مسموم كردن براي خلفاي بعدي روش خوبي بود براي همين سئوال پيش مي آيد چرا امام حسين قيام كرد؟

[ دوشنبه سیزدهم آذر 1391 ] [ 9:40 ] [ ذوالفقار علی فصیحی ]

در اینجا توجه شما را به یک نمونه تاریخی جلب می‌نماییم : مرحوم آیت الله شاه آبادی استاد عرفان امام خمینی بودند و حضرت امام(رحمة الله) از آن بزرگوار به«شیخ ما» یا« شیخ بزرگوار ما» یاد می‌کردند و این تعبیر، نشانِ عظمت آن عارف بزرگ نزد حضرت امام خمینی بود. از ویژگی‌های مرحوم شاه آبادی آن بوده که عرفان آن بزرگوار، مانع حضور وی در صحنه‌های اجتماع نبوده است. تلاش‌های آن مرحوم با عنوان امر به معروف و نهی از منکر، گویای این نکته است. آورده‌اند که در نزدیکی منزل مرحوم شاه آبادی، دکتری منزل داشت که تحت تأثیر فرهنگ غربی برای دخترش یک معلم موسیقی استخدام کرده بود و طبعاً نواختن وقت و بی وقت آلات موسیقی موجب سلب آرامش همسایه‌ها می‌شد. مرحوم شاه آبادی برای دکتر پیغام فرستاد که دست از این کار بردارد و موجبات آزار همسایه‌ها را فراهم نکند، اما جواب دکتر آن بود که من دست از این کار برنخواهم داشت و تو نیز هر آن چه می‌خواهی انجام بده! ابتکار مرحوم شاه آبادی آن بود که به مردم گفت: از این پس هر کس از کنار مطب این دکتر عبور می‌کند، وارد مطب شود و با زبان نرم و ملایم دکتر را از این کار باز بدارد. مردم نیز طرح مرحوم شاه آبادی را اجرا کردند دیری نگذشت که دکتر خود را با مخالفت افکار عمومی مواجه و به قول معروف هوا را ابری دید.

برای مرحوم شاه آبادی پیغام فرستاد که شما با پشتوانه‌ی مردمی کار خود را انجام دادی. اگر به مراجع قضایی مراجعه می‌کردی، به راحتی جوابشان را می‌دادم، امّا این شیوه را پیش بینی نکرده بودم. به این طریق مرحوم شاه آبادی توانست جمعی را از آزار و اذیّت برهاند و در حقیقت با یک منکر به صورت عملی مبارزه کند. به نظر می‌رسد که مرحوم شاه آبادی این شیوه‌ی نهی از منکر را از رسول مکرم اسلام(صلّی الله علیه و آلا)، اقتباس و پیروی کرده باشد. مردی خدمت رسول خدا(صلّی الله علیه و آلا) آمد و از این که همسایه‌اش او را آزار می‌رساند، زبان به گلایه گشود. رسول خدا(ص) که کانون علم و بردباری بود، او را به صبر دعوت کرد. مرد آرام شد و رفت. چند روز بعد برگشت و از آزار و اذیّت همسایه زبان به شکایت باز کرد. مجدداً رسول خدا(صلّی الله علیه و آله) او را به شکیبایی فرا خواند. دوباره پس از چند روز، آن مرد بازگشت و از همسایه‌اش شکوه نمود. این بار پیامبر(صلّی الله علیه و آله) به او فرمود: اسباب خود را جمع کن و داخل کوچه قرار بده. مردم که از کوچه عبور می‌کنند، از تو علّت این اقدام را سؤال می‌کنند و تو نیز علّت این کار خود را به آن‌ها بگو (آزار و اذیّت همسایه) مرد همین ابتکار را به کار برد. رهگذران بودند و سؤال و جواب این مرد و بالاخره مراتب به گوش همسایه‌ی مردم آزار رسید و آبروی خود را در خطر از دست رفتن دید. خدمت همسایه رسید و با الحاح و التماس از او خواست اسباب خود را به منزل ببرد و بیش از این به مردم چیزی نگوید و قول داد که من بعد همسایه‌ی خود را آزار نرساند. مرد که مقصود را حاصل دید، اسباب خود را به منزل برگرداند و از آن پس همسایه‌اش او را آزار نرساند.( مجله دیدار شماره 43- چهارم دی 1382 )

دور شدن از حجاب چرا و به چه علت؟

در برخی امور باید زمینه‌ها و مقدمات امر به معروف و نهی از منکر را فراهم نمود و حتی اگر لازم شد در آن زمینه اقدامات تحقیقاتی انجام داد .

امام موسی صدر ( 1328 ه. ش ) وقتی وضعیت نابسمان حجاب در لبنان را دید حدود یک سال در خصوص علل و راه‌های مبارزه با آن تحقیق کرد

خودش گفته پس از یک سال مطالعه عامل اصلی این بی بند و باری را در بی سوادی و دور بودن زنان از تعالیم اخلاقی و دینی یافتم و فهمیدم که نخست باید سطح فکری و تربیتی آنان از جهت دینی و اخلاقی تقویت بشود ولی دو مانع بزرگ در پیش داشتم که عبارت بودند از:

الف : زنان لبنان برخلاف زنان ایران در مسجد و مجالس عزاداری به هیچ وجه شرکت نمی‌کردند.

ب : شخصیت زنان به طور معمول با زیبایی، تظاهر به تجمل و مد آمیخته بود .

جمعیتی به نام (جمعیت بر و احسان) تشکیل داد و حضور زنان را در آن آزاد نمود و مسؤلیت های متعددی همچون توزیع کمک به فقرا را به آن‌ها سپرد و به مرور روح انسانی را در آن‌ها تا حدودی زنده کرد به گونه‌ای که درک کردند که به جز مد پرستی و لباس خوب پوشیدن زنان جنبه‌های دیگری هم دارند بعد از آن نیز مجموعه‌هایی به نام (خانه دختران) (آموزشگاه پرستاری) (مرکز پزشکی) (موسسه قالیبافی) (حوزه علمیه) تاسیس کرد.

حزب الله امروز ثمره اقدامات اولیه امام موسی صدر است.(کتاب پیکار با منکر در سیره ابرار – ستاد احیاء امر به معروف و نهی از منکر – نشر معروف - ص 187)

 

بررسی و کشف روش های اثر گذاری امر به معروف و نهی از منکر

یکی از اصولی ترین شرایط امر به معروف و نهی از منکر احتمال اثر گذاری آن می باشد و وجود چنین شرطی به معنای خالی کردن شانه از این وظیفه مهم شرعی نیست بلکه از وظایف بسیار مهم آمرین به معروف و ناهیان از منکر که کمتر نیز بدان توجه می نمایند این است که در هر موضوعی روشهای اثر گذاری امر به معروف و نهی از منکر را بررسی ، کشف و اجرایی نمایند چرا که در صورت عدم شناخت روش های تاثیر گذار ممکن است نتیجه معکوس عائد آمرین به معروف و ناهیان از منکر گردد در این قسمت برایتان چند نمونه از روش هایی که افراد گوناگون در راستای امر به معروف و نهی از منکر به کار برده اند را ذکر می نمائیم

مشکل در امر "امر به معروف و نهی از منکر " نیست ،بشر ذاتا به خوبی گرایش دارد و از بدی روی گردان است،ما باید با توکل بر خدا با مطالعه با تفکر و... بیاموزیم که چگونه می توان امر به معروف و تهی از منکر در خور و کارآمدی اشته باشیم،باید از سیره ی ائمه اطهار (علیهم السلام) کمک بگیریم تا در این امر مهم موفق باشیم

نمونه اول : طرح دوستی

حجة الاسلام قرائتی در یکی از خاطرات خود می گوید : در قم دوستی داشتم که می گفت: وقتی می خواهم به مسافرت بروم، مقداری سوهان قم و شیرینی می خرم و همین که وارد اتوبوس شدم به راننده و شاگرد راننده تعارف می کنم. در بین راه یا موسیقی روشن نمی کند و یا اگر روشن کرد با تذکّر من خاموش می کند. (خاطرات قرائتی - بهشتی - ج2 ص 36)

 

نمونه دوم: بیان غیر مستقیم

یک راننده می گفت زمانی در کارخانه ای کار می کردم ، وقتی می دیدم دوستان فحاشی می کنند مطالبی را می نوشتم در خصوص فوائد زبان و اینکه با زبان چه فضائلی را می توان کسب کرد و این که نباید این نعمت الهی را در مسیر فحاشی صرف نمود سپس آن را در تابلو اعلانات نصب می نمودم . و یا هر چند وقت یک بار سخنرانی را دعوت می نمودم و مواردی که دوستانم رعایت نمی کردند را به سخنران می گفتم تا وی پیرامون همان مسائل سخنرانی خود را تنظیم نماید که این اقدامات تاثیر بسیار زیادی بر نوع رفتار افراد می گذاشت

نمونه سوم: نامه نگاری

سید جمال الدین اسد آبادی در سال 1308 توسط عوامل ناصرالدین شاه در حرم حضرت مطهر عبدالعظیم حسنی دستگیر و از کشور اخراج شد وی برای روشنگری شروع به نامه نگاری می کند و نامه های متعددی به سران قبائل و علمای اسلام می فرستد که یکی از آن نامه های مهم و سرنوشت ساز نامه ای است که به میرزای شیرازی ارسال می کند و منجر به حکم معروف تحریم استعمال تنباکو را صادر می کند و به این طریق استعمار به زانو در می آید . به دنبال همین مبارزات ، شاه امتیاز « رژی » را در جمادی الثانی 1309 برابر 5 دی 1371 لغو می کند . (کتاب پیکار با منکر در سیره ابرار – ستاد احیاء امر به معروف و نهی از منکر – نشر معروف - ص 95)

حجاب اسلامی الگوی کشوری است

نمونه چهارم : تذکر و یادآوری

مرد فقیری پسر خردسالی داشت. روزی به او گفت: بیا امروز قدری میوه از باغی سرقت کنیم. پسر خردسال با نارضایتی با پدر به راه افتاد. وقتی به باغ رسیدند پدر به فرزندش گفت: تو در این جا نگهبان باش و اگر کسی آمد زود مرا خبر کن تا کسی ما را در حال دزدی نبیند و مشغول چیدن میوه از درخت مردم شد. لحظه ای بعد پسر فریاد زد: یک نفر ما را می بیند! پدر با ترس و عجله از درخت پایین آمد و پرسید چه کسی؟ کجاست؟ پسرک زیرک گفت: همان خدائی که از همه چیز آگاه است و همه چیز را می بیند! پدر از گفتار نیکوی فرزند شرمنده شد و بعد از آن دزدی نکرد. ( امر به معروف و نهی از منکر - محمد رضا اکبر ص 71)

نمونه پنجم : تبیین و تشریح حقیقت منکر

در زمان « مجلسیِ اوّل» که از علمایِ بزرگ اصفهان بود، لوطی هایِ اصفهانی مزاحم مردم می شدند و آن ها را اذیّت می کردند. روزی لوطی ها جلویِ یکی از مؤمنان را گرفتند و به او گفتند:« ما می خواهیم امشب مهمانِ تو باشیم. » مرد مؤمن با خود اندیشید:« اگر آن ها را دعوت نکنم در آینده مزاحم خانواده ام می شوند و اگر آن ها را دعوت نمایم با وسایلِ موسیقی و لهو و لعب به خانه ام می آیند و در خانه کارهای زشت و گناه آلود انجام می دهند.» مرد به ناچار، نزدِ مجلسی رفت و مشکلِ خود را با او در میان گذاشت. مجلسی چند لحظه فکر کرد و سپس گفت:« آن ها را دعوت کن که به خانه ات بیایند.» هنگام شب، مجلسیِ اوّل، زودتر از مهمانان به خانه ی مرد مؤمن رفت و به انتظار لوطی ها نشست. وقتی لوطی ها آمدند و مجلسی را دیدند، پکر شدند و تصمیم گرفتند کاری کنند که مجلسی قهر کند و برود تا مویِ دماغشان نباشد. با این تصمیم، رئیس لوطی ها به مجلسی گفت:« جناب آقا! مگر راه و روشِ ما لوطی ها چه عیبی دارد که به ما اعتراض می کنید. و شما چه خوبی دارید که ما باید شما را ستایش نمائیم؟» مجلسی گفت:« ما هزاران عیب داریم ولی نمک شناسیم. اگر نمک کسی را خوردیم، دیگر نمکدان نمی شکنیم و به او خیانت نمی کنیم و لطف او تا پایانِ عمر از خاطرمان نمی رود ولی من این صفت را در شما نمی بینم.»

نکته ای که هرگز نباید فراموش کرد این است که در زمینه ای که دیگران را امر به معروف می کنیم خود نیز کوشا باشیم تا عمل ما تأثیر داشته باشد در غیر این صورت مورد خشم خداوند واقع خواهیم شد

لوطی گفت:« در اصفهان، از هر کس می خواهید، بپرسید تا ببینید ما نمکِ چه کسی را خورده ایم که نمکدانش را شکسته باشیم و به او بد کرده باشیم.» مجلسی گفت:« خودم گواهی می دهم که شما همگی نمک نشناس هستید. آیا شما نمک خداوند را نخورده و نمکدانِ او را نشکسته اید؟ خداوند که این همه نعمت به شما داده، نعمت سلامتی و چشم و گوش و دهان و دست و پا و … به شما داده و هر روز شما را بر سفره ی خود نشانیده و روزی شما را رسانیده است، چرا نمک به حرامی می کنید. این همه از نعمت های الهی استفاده می کنید و باز هم سرکشی و گناه و پیروی از هوی و هوس می نمائید. لوطی ها مانند برق گرفته ها در جای خود خشکشان زد و به ناگاه از خواب غفلت بیدار شدند. سکوت مطلق بر خانه حکمفرما شد. پس از مدّتی، لوطی ها که سر به زیر انداخته بودند، یکی یکی از خانه خارج شدند. صبح روز بعد، لوطی ها به خانه ی مجلسی رفتند و در حضورِ او از گناهانِ خود توبه کردند. ما نیز در عمر خودمان از نعمت های بی شمار الهی استفاده می کنیم ولی خدا را فراموش کرده ایم. آیا ما از آن لوطی هایِ گناهکار نیز بدتر شدیم که متوجّه لطف و محبّتِ بی پایانِ خداوند نمی شویم؟ ( داستان های شهید دستغیب ص 60 -62)

این نمونه ها به ما یادآوری می کند که مشکل در امر "امر به معروف و نهی از منکر " نیست، بشر ذاتا به خوبی گرایش دارد و از بدی روی گردان است، ما باید با توکل بر خدا با مطالعه با تفکر و ... بیاموزیم که چگونه می توان امر به معروف و تهی از منکر در خور و کارآمدی اشته باشیم،باید از سیره ی ائمه اطهار (علیهم السلام) کمک بگیریم تا در این امر مهم موفق باشیم.

امام علی علیه السلام در این مورد فرمایش گرانقدری دارند که «وَماأعمالُ البِرِّ كُلُّها وَالجِهادُ فى سَبیلِ اللّه‏ِ عِندَ المرِ بِالمَعرُوفِ وَالنَّهىِ عَنِ المُنكَرِ إِلاّ كَنَفثَةٍ فى بَحرٍ لُجِّىٍّ؛ همه كارهاى خوب و جهاد در راه خدا در برابر امر به معروف و نهى از منكر چون قطره‏اى است در دریاى عمیق. »(نهج البلاغه، حكمت374 )

نکته ای که هرگز نباید فراموش کرد این است که در زمینه ای که دیگران را امر به معروف می کنیم خود نیز کوشا باشیم تا عمل ما تأثیر داشته باشد در غیر این صورت مورد خشم خداوند واقع خواهیم شد.

[ پنجشنبه بیست و پنجم آبان 1391 ] [ 9:2 ] [ ذوالفقار علی فصیحی ]

بی توجهی عموم جامعه به وظیفه امر به معروف و نهی از منکر

اگر همه مردم جامعه نسبت به این وظیفه شرعی عمل نمایند قریب به اتفاق مواردی که نیاز به امر به معروف یا نهی از منکر دارد با همان تذکر زبانی برطرف می‌شود ولی مشکل اینجا است که مردم نسبت به این فریضه دینی احساس وظیفه نمی‌نمایند .

مثال : امروزه اگر مردم ببینند خانمی بر ترک موتور سوار شده و احتمالاً چادر و یا مانتوی وی در بین پره‌های چرخ گیر می‌کند هر کسی به نحوی اینم ساله را تذکر می‌دهد تا بالاخره اینم ساله را اصلاح کند حال اگر همین روحیه در گناهان رایج جامعه نیز توسط مردم پی گرفته می‌شد و هر کس که با منکری مواجه می‌شد با همان زبان ساده و بدون مشکل آفرینی تذکر می‌داد با طیب خاطر می‌توان اذعان نمود که بالاخره فرد خطا کار مجبور می‌شد خودش را اصلاح کند .

[ پنجشنبه بیست و پنجم آبان 1391 ] [ 9:0 ] [ ذوالفقار علی فصیحی ]

لغوی “قلب“، همان انقلاب و دگرگونی است و اگر عضو خاص انسان را که در سمت چپ سینه او قرار دارد، قلب میگویند، به این جهت است که پیوسته در حال دگرگونی و تلاش است تا با حرکات منظم خود، حیات انسان را تنظیم کند.[1] اما مراد از قلب در قرآن، همان گوهر مجرد ملکوت

[ پنجشنبه بیست و پنجم آبان 1391 ] [ 8:58 ] [ ذوالفقار علی فصیحی ]



  • اساس یک اصل کلی هر اقدامی فارغ از بدی یا خوبی اثراتی به همراه دارد. انقلاب صنعتی نیز از این اصل جدا نماند و آثار مخرب آن به دنبال اثرات مثبتش خود نمایی کرد. از دیدگاه جامعه شناسی یکی از آثار منفی صنعتی شدن زندگی انسان‌ها روزمرگی است. کارشناسان از نشانه

[ پنجشنبه بیست و پنجم آبان 1391 ] [ 8:56 ] [ ذوالفقار علی فصیحی ]
.: Weblog Themes By themzha :.

درباره وبلاگ

امکانات وب